الْمِسْكِیْنِؕ(۳۴)
ترجمۂکنزالایمان: بے شک وہ عظمت والے اللّٰہ پر ایمان نہ لاتا تھا۔اور مسکین کو کھانا دینے کی رغبت نہ دیتا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: بیشک وہ عظمت والے اللّٰہ پر ایمان نہ لاتا تھا۔اور مسکین کو کھانا دینے کی ترغیب نہیں دیتا تھا۔
{اِنَّهٗ كَانَ لَا یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ الْعَظِیْمِ: بیشک وہ عظمت والے اللّٰہ پر ایمان نہ لاتا تھا۔} اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کاخلاصہ یہ ہے کہ اسے یہ شدید عذاب اس لئے دیا جائے گا کہ وہ دنیا میں اللّٰہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کرتا تھا اوراس کی عظمت و وحدانیَّت کا اعتقادنہ رکھتا تھا اور وہ اپنے کفر کے ساتھ ساتھ نہ اپنے نفس کو ،نہ اپنے اہلِ خانہ کو اور نہ دوسروں کو مسکین کو کھانا دینے کی ترغیب دیتا تھا۔
حضرت عبداللّٰہ بن احمد نسفی رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’ اس میں اشارہ ہے کہ وہ مرنے کے بعد اٹھائے جانے کا قائل نہ تھا کیونکہ مسکین کو کھانا دینے والا مسکین سے تو کسی بدلہ کی اُمید رکھتا ہی نہیں بلکہ محض اللّٰہ تعالیٰ کی رضا اور ثوابِ آخرت کی اُمید پر مسکین کو دیتا ہے اور جومرنے کے بعد اٹھائے جانے اور آخرت پر ایمان ہی نہ رکھتا ہو تو اُسے مسکین کو کھلانے کی کیا غرض ہے۔( خازن، الحاقۃ، تحت الآیۃ: ۳۳-۳۴، ۴/۳۰۶، مدارک، الحاقۃ، تحت الآیۃ: ۳۳-۳۴، ص۱۲۷۶، ملتقطاً)
مسکین کو کھانا کھلانے کی ترغیب:
اس سے معلوم ہوا کہ مسکین کو کھانا کھلانے اور ا س کی ترغیب دینے کی بہت اہمیت ہے اور اسے محروم کرنا جرمِ عظیم ہے۔ مسکین وہ شخص ہے جس کے پاس کچھ نہ ہو یہاں تک کہ کھانے اور بدن چھپانے کے لیے اس کا محتاج ہے کہ لوگوں سے سوال کرے اور اس کے لئے سوال کرنا حلال ہے۔( عالمگیری، کتاب الزکاۃ، الباب السابع فی المصارف، ۱/۱۸۷-۱۸۸)
مسکین کو کھانا کھلانے کا ثواب بہت زیادہ ہے ، چنانچہ اللّٰہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کا وصف بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے: