Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
327 - 881
اعمال نامہ پڑھتے وقت مجھے یہ ذلت و رسوائی پیش نہ آتی ۔ میرا وہ مال جو میں  نے دنیا میں  جمع کیا تھامیرے کچھ کام نہ آیا اور وہ ذراسا بھی میرا عذاب ٹال نہ سکا ۔میرا سب زور جاتا رہا اور میں  ذلیل و        محتاج ہو کر رہ گیا۔ حضرت عبداللّٰہ بن عباس رَضِیَ  اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں  کہ اس سے اس کی مراد یہ ہوگی کہ دنیا میں  جو حجتیں  میں  کیا کرتا تھا وہ سب باطل ہوگئیں ۔( صاوی ، الحاقۃ ، تحت الآیۃ : ۲۵-۲۹ ، ۶ / ۲۲۲۹، خازن، الحاقۃ، تحت الآیۃ: ۲۵-۲۹، ۴/۳۰۵، مدارک، الحاقۃ، تحت الآیۃ: ۲۵-۲۹، ص۱۲۷۵، ملتقطاً)
خُذُوْهُ فَغُلُّوْهُۙ(۳۰) ثُمَّ الْجَحِیْمَ صَلُّوْهُۙ(۳۱) ثُمَّ فِیْ سِلْسِلَةٍ ذَرْعُهَا سَبْعُوْنَ ذِرَاعًا فَاسْلُكُوْهُؕ(۳۲)
ترجمۂکنزالایمان: اسے پکڑو پھر اسے طوق ڈالو ۔پھر اسے بھڑکتی آگ میں  دھنساؤ ۔پھر ایسی زنجیر میں  جس کا ناپ ستر ہاتھ ہے اسے پِرو دو۔
ترجمۂکنزُالعِرفان:  (فرشتوں  کو حکم ہوگا) اسے پکڑو پھر اسے طوق ڈالو۔پھر اسے بھڑکتی آگ میں  داخل کرو۔پھر ایسی زنجیر میں  جکڑ دو جس کی لمبائی ستر ہاتھ ہے۔
{خُذُوْهُ فَغُلُّوْهُ: (فرشتوں  کو حکم ہوگا) اسے پکڑو پھر اسے طوق ڈالو۔} اس آیت اورا س کے بعد والی دو آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ اس کے بعد اللّٰہ تعالیٰ جہنم کے خازنوں کو حکم دے گا کہ تم اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کے اس نافرمان کو پکڑلو ،پھر اس کے ہاتھ اس کی گردن سے ملا کر طوق میں  باندھ دو،پھر اسے بھڑکتی آگ میں  داخل کردو تاکہ ا س کی جزا ا س کے گناہ کے مطابق ہو، پھر ایسی زنجیر کو جس کی لمبائی فرشتوں  کے ہاتھ سے ستر ہاتھ ہے اِس میں  اس طرح داخل کردو جیسے کسی چیز میں  ڈوری داخل کی جاتی ہے۔( روح البیان ، الحاقۃ ، تحت الآیۃ: ۳۰-۳۲، ۱۰/۱۴۵، جلالین مع صاوی، الحاقۃ، تحت الآیۃ: ۳۰-۳۲، ۶/۲۲۳۰، ملتقطاً)
اِنَّهٗ كَانَ لَا یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ الْعَظِیْمِۙ(۳۳) وَ لَا یَحُضُّ عَلٰى طَعَامِ