Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
326 - 881
چرواہے کے مالک کے پاس پہنچے اور اس نیک چرواہے کو خرید کر آزاد کردیا اور ساری بکریاں  بھی خرید کر اس چرواہے کو تحفے میں دے دیں  ۔( عیون الحکایات، الحکایۃ السابعۃ والسبعون، ص۹۸-۹۹، ملتقطاً)
وَ اَمَّا مَنْ اُوْتِیَ كِتٰبَهٗ بِشِمَالِهٖ ﳔ فَیَقُوْلُ یٰلَیْتَنِیْ لَمْ اُوْتَ كِتٰبِیَهْۚ(۲۵) وَ لَمْ اَدْرِ مَا حِسَابِیَهْۚ(۲۶) یٰلَیْتَهَا كَانَتِ الْقَاضِیَةَۚ(۲۷) مَاۤ اَغْنٰى عَنِّیْ مَالِیَهْۚ(۲۸) هَلَكَ عَنِّیْ سُلْطٰنِیَهْۚ(۲۹)
ترجمۂکنزالایمان: اور وہ جو اپنے نامۂ اعمال بائیں  ہاتھ میں  دیا جائے گا کہے گا ہائے کسی طرح مجھے اپنا نَوِشْتَہ نہ دیا جاتا۔ اور میں  نہ جانتا کہ میرا حساب کیا ہے۔ ہائے کسی طرح موت ہی قصہ چکا جاتی۔میرے کچھ کام نہ آیا میرا مال۔ میرا سب زور جاتا رہا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور رہا وہ جسے اس کانامہ اعمال اس کے بائیں  ہاتھ میں  دیا جائے گا تو وہ کہے گا: اے کاش کہ مجھے میرا نامہ اعمال نہ دیا جاتا۔ اور میں  نہ جانتا کہ میرا حساب کیا ہے۔اے کاش کہ دنیا کی موت ہی (میرا کام) تمام کردینے والی ہوجاتی۔ میرا مال میرے کچھ کام نہ آیا۔میرا سب زور جاتا رہا۔
{وَ اَمَّا مَنْ اُوْتِیَ كِتٰبَهٗ بِشِمَالِهٖ: اور رہا وہ جسے اس کانامہ اعمال اس کے بائیں  ہاتھ میں  دیا جائے گا۔} سعادت مندوں  کا حال بیان کرنے کے بعد اب بد بختوں  کا حال بیان کیاجا رہا ہے ، چنانچہ اس آیت اور ا س کے بعد والی چار آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ جس کانامۂ اعمال بائیں  ہاتھ میں  دیا جائے گا تو وہ جب اپنے نامۂ اعمال کو دیکھے گا اور اس میں  اپنے برے اعمال لکھے ہوئے پائے گا تو شرمندہ و رُسوا ہو کر کہے گا: اے کاش کہ مجھے میرا نامۂ اعمال نہ دیا جاتا اور میں  نہ جانتا کہ میرا حساب کیا ہے۔ اے کاش کہ دنیا کی موت ہی ہمیشہ کیلئے میری زندگی ختم کردیتی اور مجھے حساب کیلئے نہ اُٹھایا جاتا اور اپنا