{وَ جَآءَ فِرْعَوْنُ وَ مَنْ قَبْلَهٗ: اور فرعون اور اس سے پہلے والے لائے۔} اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ فرعون اور ا س سے بھی پہلی اُمتوں کے کفار اور نافرمانیوں کی شامت سے الٹنے والی بستیوں کے لوگ جیسے حضرت لوط عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم کی بستیوں کے لوگ ،یہ سب قبیح اَفعال، گناہوں اور شرک کے مُرتکب ہوئے اورہر امت نے منع کئے جانے کے باوجود گناہوں سے رکنے میں اپنے اُس رسول کی نافرمانی کی جو اللّٰہ تعالیٰ کی جانب سے اُن کی طرف بھیجے گئے تھے تو اللّٰہ تعالیٰ نے ان میں سے ہر قوم کی انتہائی سخت گرفت فرمائی۔( روح البیان، الحاقۃ، تحت الآیۃ: ۹-۱۰، ۱۰/۱۳۴-۱۳۵، ملخصاً)
اِنَّا لَمَّا طَغَا الْمَآءُ حَمَلْنٰكُمْ فِی الْجَارِیَةِۙ(۱۱) لِنَجْعَلَهَا لَكُمْ تَذْكِرَةً وَّ تَعِیَهَاۤ اُذُنٌ وَّاعِیَةٌ(۱۲)
ترجمۂکنزالایمان: بے شک جب پانی نے سر اٹھایا تھاہم نے تمہیں کشتی میں سوار کیا۔کہ اسے تمہارے لیے یادگار کریں اور اسے محفوظ رکھے وہ کان کہ سن کر محفوظ رکھتا ہو۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: بیشک جب پانی نے سر اٹھایا تھاتوہم نے تمہیں کشتی میں سوار کیا۔تاکہ اسے تمہارے لیے یادگار بنادیں اور سن کر یاد رکھنے والے کان اس واقعہ کو یاد رکھیں ۔
{اِنَّا لَمَّا طَغَا الْمَآءُ: بیشک جب پانی نے سر اٹھایا تھا۔} اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کاخلاصہ یہ ہے کہ جب حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم کے کفر اور گناہوں پر قائم رہنے اور قیامت کے احوال کے ساتھ ساتھ دیگر جو احکام حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی طرف وحی کئے جاتے تھے ان میں حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو جھٹلانے کی وجہ سے طوفانِ نوح کے پانی نے سر اٹھایا اور وہ درختوں ، عمارتوں ، پہاڑوں اور ہر چیز سے بلند ہوگیا تھا تو اے لوگو! ہم نے تمہیں ا س وقت حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی کشتی میں سوار کیا جب کہ تم اپنے آباء کی پشتوں میں تھے تاکہ ہم مومنین کو نجات دینے اور کافروں کے ہلاک فرمانے کو تمہارے لیے یادگار بنا دیں کہ یہ واقعہ لوگوں کے لئے عبرت و