Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
319 - 881
نصیحت کا سبب ہو اور اللّٰہ تعالیٰ کی قدرت و حکمت کے کمال،اس کے قہر کی قوت اور رحمت کی وسعت کی دلیل ہو اور سن کر یاد رکھنے والے لوگ اس واقعہ کی کام کی باتوں  کو یاد رکھیں  تاکہ اُن سے نفع اُٹھا سکیں ۔
	یاد رہے کہ یہاں  آباء سے حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے تین بیٹے سام،حام اور یافث مراد ہیں  اور سابقہ امتوں  کے واقعات بیان کرنے اور ان پر آنے والے عذابات کا ذکر کرنے سے مقصود یہ ہے کہ ا س امت کے لوگ رسولُ   اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی نافرمانی کرنے میں  ان لوگوں  کی پیروی کرنے سے ڈریں ۔( ابو سعود، الحاقۃ، تحت الآیۃ:۱۱-۱۲، ۵/۷۶۱، قرطبی، الحاقۃ، تحت الآیۃ: ۱۱-۱۲، ۹/۱۹۵، الجزء الثامن عشر، جلالین مع صاوی، الحاقۃ، تحت الآیۃ: ۱۱-۱۲، ۶/۲۲۲۶-۲۲۲۷، ملتقطاً)
فَاِذَا نُفِخَ فِی الصُّوْرِ نَفْخَةٌ وَّاحِدَةٌۙ(۱۳) وَّ حُمِلَتِ الْاَرْضُ وَ الْجِبَالُ فَدُكَّتَا دَكَّةً وَّاحِدَةًۙ(۱۴) فَیَوْمَىٕذٍ وَّقَعَتِ الْوَاقِعَةُۙ(۱۵)
ترجمۂکنزالایمان: پھرجب صُور پھونک دیا جائے ایک دم۔اور زمین اور پہاڑ اٹھا کر دفعۃً چورا کردئیے جائیں ۔وہ دن ہے کہ ہو پڑے گی وہ ہونے والی۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: پھرجب صور میں  (پہلی مرتبہ) ایک پھونک ماری جائے گی۔اور زمین اور پہاڑ اٹھا کر ایک دم چورا چوراکردئیے جائیں  گے۔تو اس دن واقع ہونے والی واقع ہوجائے گی۔ 
{فَاِذَا نُفِخَ فِی الصُّوْرِ نَفْخَةٌ وَّاحِدَةٌ: پھرجب صور میں  ایک پھونک ماری جائے گی۔} اس سورت کی ابتدائی آیات میں  قیامت اور اس کی ہَولناکیوں  کا اِجمالی ذکر ہوا اور اب یہاں  سے قیامت کے احوال کی تفصیل بیان کی جا رہی ہے اورا س کی ابتداء قیامت قائم ہوتے وقت کے واقعات سے کی گئی ہے،چنانچہ اس آیت اور اس کے بعد والی دو آیات میں  ارشاد فرمایا کہ پھرجب صور میں  پہلی مرتبہ ایک پھونک ماری جائے گی اور زمین اور پہاڑ اپنی جگہوں  سے اٹھا کر ایک دم چورا چوراکردئیے جائیں  گے تو اس دن وہ قیامت قائم ہو جائے گی جس کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے۔( جمل ، الحاقۃ ، تحت الآیۃ : ۱۳،  ۸/۹۳ ، خازن، الحاقۃ، تحت الآیۃ: ۱۳-۱۵، ۴/۳۰۳-۳۰۴، روح البیان، الحاقۃ، تحت الآیۃ: ۱۳-۱۵، ۱۰/۱۳۶-۱۳۷، ملتقطاً)