Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
317 - 881
لوگوں  کو ان دنوں  اور راتوں میں  یوں  پچھاڑے ہوئے دیکھتے گویا کہ وہ گری ہوئی کھجوروں  کے سوکھے تنے ہیں  ۔ تو کیا تم ان میں  کسی کو بچا ہوا دیکھتے ہو؟
{سَخَّرَهَا عَلَیْهِمْ سَبْعَ لَیَالٍ وَّ ثَمٰنِیَةَ اَیَّامٍۙ-حُسُوْمًا: اللّٰہ نے وہ آندھی ان پرلگاتارسات راتیں  اور آٹھ دن پوری قوت کے ساتھ مسلط کردی۔} اس آیت اورا س کے بعد والی آیت کاخلاصہ یہ ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے قومِ عاد پر ماہِ شوال کے آخر میں  اور انتہائی تیز سردی کے موسم میں  ایک بدھ سے دوسرے بدھ تک لگاتارسات راتیں  اور آٹھ دن وہ آندھی پوری قوت کے ساتھ مُسَلَّط کردی ،تو اے مُخاطَب ! اگر تم اس واقعے کے وقت وہاں  موجود ہوتے تو ان لوگوں  کو ان دنوں  اور راتوں میں  پچھاڑے ہوئے دیکھتے اور ہلاک ہونے کے بعد وہ لوگ ایسے معلوم ہوتے تھے جیسے وہ کھجور کے گرے ہوئے سوکھے تنے ہیں  تو کیا تم ایمان والوں  کے علاوہ ان میں  سے کسی چھوٹے بڑے، مرد یا عورت کو بچا ہوا دیکھتے ہو؟کہا گیا ہے کہ آٹھویں  روز جب صبح کو وہ سب لوگ ہلاک ہوگئے تو ہواؤں  نے اُنہیں  اُڑا کر سمندر میں  پھینک دیا اوران میں  سے ایک بھی باقی نہ رہا۔( خازن، الحاقۃ، تحت الآیۃ: ۷-۸، ۴/۳۰۳، مدارک، الحاقۃ، تحت الآیۃ: ۷-۸، ص۱۲۷۴، روح البیان، الحاقۃ، تحت الآیۃ: ۷-۸، ۱۰/۱۳۲-۱۳۴، بیضاوی، الحاقۃ، تحت الآیۃ: ۷-۸، ۵/۳۷۸-۳۷۹، ملتقطاً)
وَ جَآءَ فِرْعَوْنُ وَ مَنْ قَبْلَهٗ وَ الْمُؤْتَفِكٰتُ بِالْخَاطِئَةِۚ(۹) فَعَصَوْا رَسُوْلَ رَبِّهِمْ فَاَخَذَهُمْ اَخْذَةً رَّابِیَةً(۱۰)
ترجمۂکنزالایمان: اور فرعون اور اس سے اگلے اور اُلٹنے والی بستیاں  خطا لائے۔تو انہوں  نے اپنے رب کے رسولوں  کا حکم نہ ماناتو اس نے انہیں  بڑھی چڑھی گرفت سے پکڑا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور فرعون اور اس سے پہلے والے اور الٹنے والی بستیوں  نے خطاؤں  کا ارتکاب کیا ۔تو انہوں  نے اپنے رب کے رسول کا حکم نہ مانا تو اللّٰہ نے انہیں  زیادہ سخت گرفت سے پکڑلیا۔