چنگھاڑ سے۔اور رہے عاد وہ ہلاک کئے گئے نہایت سخت گرجتی آندھی سے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: ثمود اور عاد نے دلوں کو دہلادینے والی کو جھٹلایا۔تو قومِ ثمود کے لوگ تو حد سے گزری ہوئی چنگھاڑ سے ہلاک کئے گئے۔اور عاد کے لوگ تو وہ نہایت سخت گرجتی آندھی سے ہلاک کیے گئے ۔
{كَذَّبَتْ ثَمُوْدُ وَ عَادٌۢ: ثمود اور عاد نے جھٹلایا۔} اس سے پہلی آیات میں قیامت کی ہَولناکی اور شدّت کو بیان کیا گیا اور یہاں سے سابقہ امتوں میں سے ان لوگوں کا انجام بیان کیا گیا جنہوں نے قیامت کو جھٹلایا تاکہ کفارِ مکہ ان سے نصیحت حاصل کریں اور قیامت کو جھٹلانے والوں کا انجام دیکھ کر ڈریں ،چنانچہ اس آیت اور اس کے بعد والی دو آیات کاخلاصہ یہ ہے کہ حضرت صالح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم ثمود نے اور حضرت ہود عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم عاد نے طرح طرح کی دہشتوں اور ہَولناکیوں سے دلوں کو دہلادینے والی قیامت کو جھٹلایا تو (دیگر جرائم کے ساتھ ساتھ اس جرم کی وجہ سے بھی) قومِ ثمود کے لوگ تو شدّت میں حد سے گزری ہوئی چنگھاڑیعنی سخت ہَولناک آواز سے ہلاک کر دئیے گئے اور عادکے لوگ انتہائی سخت گرجتی آندھی سے ہلاک کر دئیے گئے اور وہ لوگ اپنی طاقت اور قوت کے باوجود بھی اس آندھی کو روک نہ سکے۔( تفسیر کبیر، الحاقۃ، تحت الآیۃ: ۴-۵، ۱۰/۶۲۱، روح البیان، الحاقۃ، تحت الآیۃ: ۴-۶، ۱۰/۱۳۱-۱۳۲، مدارک، الحاقۃ، تحت الآیۃ: ۴-۶، ص۱۲۷۳، ملتقطاً)
سَخَّرَهَا عَلَیْهِمْ سَبْعَ لَیَالٍ وَّ ثَمٰنِیَةَ اَیَّامٍۙ-حُسُوْمًاۙ-فَتَرَى الْقَوْمَ فِیْهَا صَرْعٰىۙ-كَاَنَّهُمْ اَعْجَازُ نَخْلٍ خَاوِیَةٍۚ(۷) فَهَلْ تَرٰى لَهُمْ مِّنْۢ بَاقِیَةٍ(۸)
ترجمۂکنزالایمان: وہ ان پر قوت سے لگادی سات راتیں اور آٹھ دن لگاتارتو ان لوگوں کو ان میں دیکھو پچھڑے ہوئے گویا وہ کھجور کے ڈنڈ ہیں گرے ہوئے۔ تو تم ان میں کسی کو بچا ہوا دیکھتے ہو۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اللّٰہ نے وہ آندھی ان پرلگاتارسات راتیں اور آٹھ دن پوری قوت کے ساتھ مسلط کردی تو تم ان