Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
313 - 881
سورۂ حاقہ
سورۂ حاقہ کا تعارُف
مقامِ نزول:
	 سورئہ حاقہ مکہ مکرمہ میں  نازل ہوئی ہے۔( خازن، تفسیر سورۃ الحاقۃ، ۴/۳۰۱)
رکوع اور آیات کی تعداد:
	 اس سورت میں  2رکوع، 52آیتیں  ہیں ۔
’’حاقہ ‘‘نام رکھنے کی وجہ :
	حاقہ قیامت کے ناموں  میں  سے ایک نام ہے اوراس کا معنی ہے یقینی طور پر واقع ہونے والی، اور چونکہ اس سورت کو اسی نام کے سوال کے ساتھ شروع کیا گیا ہے اس لئے اسے ’’سورۂ حاقہ‘‘ کہتے ہیں ۔
سورۂ حاقہ کے مضامین:
	اس سورت کا مرکزی مضمون یہ ہے کہ اس میں  قیامت کی ہَولناکیاں  بیان کی گئیں  اور یہ بتایا گیا کہ قرآنِ مجید اللّٰہ تعالیٰ کا کلام ہے اور نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کفار کے تمام الزامات سے بَری ہیں  ،نیز اس سورت میں  یہ مضامین بیان کئے گئے ہیں :
(1)…اس سورت کی ابتداء میں  بتایاگیا کہ قیامت کا واقع ہونا یقینی اور قطعی ہے اور اس کی دہشت،ہَولناکی اور شدّت کا کوئی اندازہ نہیں  لگا سکتا۔
(2)…کفارِ مکہ کو نصیحت کرنے کے لئے قومِ عاد اور قومِ ثمود کا دردناک انجام بیان کیا گیا اور یہ بتایا گیا کہ وہ دیگر جرائم کے علاوہ دلوں  کو دہلا دینے والی قیامت کو بھی جھٹلاتے تھے،نیز فرعون اور اس سے پہلے الٹنے والی بستیوں  کا ذکر کیاگیا