نظر کی حقیقت اور نظر ِبد کا علاجـ:
اس سے معلوم ہوا کہ نظر واقعی لگ جاتی ہے ،اَحادیث میں بھی اس چیز کو بیان کیا گیا ہے چنانچہ حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،نبی اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’نظر کا لگ جانا درست ہے۔( بخاری، کتاب الطب، باب العین حق، ۴/۳۲، الحدیث: ۵۷۴۰)
اورحضرت عبداللّٰہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے،نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’نظر حق ہے اور اگر کوئی چیز تقدیر سے سبقت لے جاتی تو وہ نظر ہوتی اور جب تم سے (اعضاء) دھونے کا کہا جائے تو دھو دو۔( مسلم، کتاب السلام، باب الطب والمرض والرقی، ص۱۲۰۲، الحدیث: ۴۲(۲۱۸۸))
اورحضرت جابر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’بے شک نظر (کا اثریہاں تک ہو جاتا ہے کہ وہ) آدمی کو قبر میں داخل کر دیتی ہے اور اونٹ کو ہنڈیا میں ڈال دیتی ہے۔( مسند شہاب، ۶۷۸-انّ العین لتدخل الرجل القبر، ۲/۱۴۰، الحدیث: ۱۰۵۷)
زیر ِتفسیر آیت نظر ِبد کے علاج کے لیے اکسیرہے۔چنانچہ حضرت حسن رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ جس کو نظر لگے اس پر یہ آیت پڑھ کر دم کردی جائے۔( ابو سعود، ن، تحت الآیۃ: ۵۱، ۵/۷۵۹)
{وَ مَا هُوَ اِلَّا ذِكْرٌ لِّلْعٰلَمِیْنَ: حالانکہ وہ تو تمام جہانوں کے لیے نصیحت ہی ہیں ۔} اس آیت کا ایک معنی اوپر بیان ہو ا کہ قرآنِ مجید جِنّوں اور انسانوں سبھی کے لئے نصیحت ہے اوربعض مفسرین نے فرمایا ہے کہ یہاں ’’هُوَ ‘‘ ضمیر کا مِصداق رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ہیں اور’’ذکر‘‘ فضل و شرف کے معنی میں ہے ،اس صورت میں اس آیت کے معنی یہ ہیں کہ سیّد المرسَلین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ تمام جہانوں کیلئے شرف ہیں توان کی طرف جنون کی نسبت کس طرح کی جا سکتی ہے ۔( ابو سعود، ن، تحت الآیۃ: ۵۲، ۵/۷۵۹، مدارک، القلم، تحت الآیۃ: ۵۲، ص۱۲۷۲، ملتقطاً)