کہ اللّٰہ تعالیٰ کے رسولوں کو جھٹلانے کی وجہ سے اللّٰہ تعالیٰ نے انہیں زیادہ سخت گرفت سے پکڑلیا ۔
(3)…یہ بتایا گیا کہ جو لوگ حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر ایمان لائے انہیں اللّٰہ تعالیٰ نے کشتی میں سوار کر کے طوفان کے عذاب سے بچا لیا اور نسلِ انسانی کوباقی رکھا۔
(4)…قیامت کی چند ہَولناکیاں بیان کی گئیں اور سعادت مندوں اور بدبختوں کا حال بیان کیا گیا۔
(5)…اللّٰہ تعالیٰ نے قسم کھا کر بتایا کہ قرآنِ مجید اللّٰہ تعالیٰ کی وحی ہے کسی شاعر کا کلام یا کاہِن کا قول نہیں ہے۔
(6)…اس سورت کے آخر میں دلیل کے ساتھ بیان کیاگیا کہ حضور پُر نور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سچے رسول ہیں ۔
سورۂ قلم کے ساتھ مناسبت:
سورۂ حاقہ کی اپنے سے ماقبل سورت ’’قلم‘‘ کے ساتھ ایک مناسبت یہ ہے کہ سورۂ قلم میں قیامت کاذکر اِجمالی طور پر ہوا اور سورۂ حاقہ میں قیامت کے بارے میں تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔دوسری مناسبت یہ ہے کہ سورۂ قلم میں قرآنِ مجید کو جھٹلانے والے ہر شخص کے بارے میں وعید بیان ہوئی اور سورۂ حاقہ میں کفارِ مکہ کو تنبیہ اور نصیحت کرنے کے لئے ان امتوں کے اَحوال بیان کئے گئے جو اپنے رسولوں کو جھٹلانے کی پاداش میں دردناک عذاب میں مبتلا ہوئیں ۔
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
ترجمۂکنزالایمان: اللّٰہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اللّٰہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان ، رحمت والاہے ۔
اَلْحَآقَّةُۙ(۱) مَا الْحَآقَّةُۚ(۲) وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا الْحَآقَّةُؕ(۳)
ترجمۂکنزالایمان: وہ حق ہونے والی۔کیسی وہ حق ہونے والی۔اور تم نے کیا جانا کیسی وہ حق ہونے والی۔