Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
311 - 881
وَ یَقُوْلُوْنَ اِنَّهٗ لَمَجْنُوْنٌۘ(۵۱) وَ مَا هُوَ اِلَّا ذِكْرٌ لِّلْعٰلَمِیْنَ۠(۵۲)
ترجمۂکنزالایمان: اور ضرور کافر تو ایسے معلوم ہوتے ہیں کہ گویا اپنی بد نظر لگا کر تمہیں  گرادیں  گے جب قرآن سنتے ہیں  اور کہتے ہیں  یہ ضرور عقل سے دور ہیں ۔ اور وہ تو نہیں  مگر نصیحت سارے جہاں  کے لیے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور بیشک کافر جب قرآن سنتے ہیں  تو ایسے معلوم ہوتا ہے کہ گویا اپنی آنکھوں سے نظر لگا کر تمہیں  ضرور گرادیں  گے اور وہ کہتے ہیں : یہ ضرور عقل سے دور ہیں ۔حالانکہ وہ تو تمام جہانوں  کے لیے نصیحت ہی ہیں ۔
{وَ اِنْ یَّكَادُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا: اور بیشک ضرور کافر تو ایسے معلوم ہوتے ہیں ۔} اس آیت اور ا س کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اے حبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، کافر جب قرآن سنتے ہیں  اور بغض و عداوت کی نگاہوں  سے آپ کو گھور گھور کر دیکھتے ہیں  تو ایسے معلوم ہوتا ہے کہ گویا اپنی آنکھوں  کے ساتھ نظر لگا کر تمہیں  اپنی جگہ سے گرادیں  گے اور جب آپ کو قرآنِ کریم پڑھتے دیکھتے ہیں  تو حسد و عناد اور لوگوں  کو نفرت دلانے کیلئے آپ کی شان میں  کہتے ہیں  یہ ضرور عقل سے دور ہیں حالانکہ جس قرآن کی وجہ سے وہ لوگ رسولِ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی طرف جُنون کی نسبت کر رہے ہیں  وہ تو جِنّوں کیلئے بھی اور انسانوں  کے لئے بھی نصیحت ہی ہے لہٰذا وہ شخصیت مجنون کس طرح ہو سکتی ہے جو قرآن جیسی کتاب لے کر آئی ہو۔شانِ نزول: منقول ہے کہ عرب میں  بعض لوگ نظر لگانے میں  شہرہ آفاق تھے اور ان کی یہ حالت تھی کہ دعویٰ کرکے نظر لگاتے تھے اور جس چیز کو اُنہوں  نے نقصان پہنچانے کے ارادے سے دیکھا تو وہ دیکھتے ہی ہلاک ہوگئی ،ایسے بہت سے واقعات اُن کے تجربہ میں  آچکے تھے ا س لئے کفار نے اُن سے کہا کہ رسولِ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو نظر لگائیں  تو ان لوگوں نے حضور پُر نور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو بڑی تیز نگاہوں  سے دیکھا اور کہا کہ ہم نے اب تک نہ ایسا آدمی دیکھا اور نہ ایسی دلیلیں  دیکھیں  ۔ اِن لوگوں  کا کسی چیز کو دیکھ کر حیرت کرنا ہی ستم ہوتا تھا لیکن اُن کی یہ تمام جدوجہد ان کی طرف سے دن رات کی جانے والی دیگر سازشوں  اور فریب کاریوں  کی طرح بے کار گئی اور اللّٰہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو اُن کے شر سے محفوظ رکھا اور یہ آیت نازل ہوئی۔( خازن، ن، تحت الآیۃ: ۵۱-۵۲، ۴/۳۰۲، مدارک، القلم، تحت الآیۃ: ۵۱-۵۲، ص۱۲۷۱-۱۲۷۲، ملتقطاً)