اور زیادہ ہوجائیں اور ان کے لئے ذلت کا عذاب ہے۔
اور ارشاد فرماتا ہے: ’’وَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا سَنَسْتَدْرِجُهُمْ مِّنْ حَیْثُ لَا یَعْلَمُوْنَۚۖ(۱۸۲) وَ اُمْلِیْ لَهُمْؕ-اِنَّ كَیْدِیْ مَتِیْنٌ‘‘(اعراف:۱۸۲۔۱۸۳)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا تو عنقریب ہم انہیں آہستہ آہستہ (عذاب کی طرف) لے جائیں گے جہاں سے انہیں خبر بھی نہ ہوگی۔ اور میں انہیں ڈھیل دوں گا بیشک میری خفیہ تدبیر بہت مضبوط ہے۔
اور ارشاد فرماتا ہے : ’’قُلْ هَلْ نُنَبِّئُكُمْ بِالْاَخْسَرِیْنَ اَعْمَالًاؕ(۱۰۳) اَلَّذِیْنَ ضَلَّ سَعْیُهُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ هُمْ یَحْسَبُوْنَ اَنَّهُمْ یُحْسِنُوْنَ صُنْعًا ‘‘(کہف:۱۰۳،۱۰۴)
ترجمۂکنزُالعِرفان: تم فرماؤ: کیا ہم تمہیں بتادیں کہ سب سے زیادہ ناقص عمل والے کون ہیں ؟وہ لوگ جن کی ساری کوشش دنیا کی زندگی میں برباد ہو گئی حالانکہ وہ یہ گمان کررہے ہیں کہ وہ اچھا کام کررہے ہیں ۔
ان آیات کو سامنے رکھتے ہوئے ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ اللّٰہ تعالیٰ کی خفیہ تدبیر سے ڈرتا رہے ،گناہوں پر اللّٰہ تعالیٰ کی گرفت ،اپنے نیک اعمال ضائع ہو جانے اور برا خاتمہ ہونے پر خوفزدہ رہے۔اللّٰہ تعالیٰ اپنی خفیہ تدبیر سے متعلق ارشاد فرتا ہے: ’’اَفَاَمِنَ اَهْلُ الْقُرٰۤى اَنْ یَّاْتِیَهُمْ بَاْسُنَا بَیَاتًا وَّ هُمْ نَآىٕمُوْنَؕ(۹۷) اَوَ اَمِنَ اَهْلُ الْقُرٰۤى اَنْ یَّاْتِیَهُمْ بَاْسُنَا ضُحًى وَّ هُمْ یَلْعَبُوْنَ(۹۸) اَفَاَمِنُوْا مَكْرَ اللّٰهِۚ-فَلَا یَاْمَنُ مَكْرَ اللّٰهِ اِلَّا الْقَوْمُ‘‘(اعراف:۹۷۔۹۹)
ترجمۂکنزُالعِرفان: کیا بستیوں والے اس بات سے بے خوف ہوگئے کہ ان پر ہمارا عذاب رات کو آئے جب وہ سورہے ہوں ۔ یا بستیوں والے اس بات سے بے خوف ہیں کہ ان پر ہمارا عذاب دن کے وقت آجائے جب وہ کھیل میں پڑے ہوئے ہوں ۔ کیا وہ اللّٰہ کی خفیہ تدبیر سے بے خوف