Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
305 - 881
فرمایا: ’’جب تم یہ دیکھو کہ بندے کے گناہوں  پر قائم ہونے کے باوجود اللّٰہ تعالیٰ اسے ا س کی پسند کی دُنْیَوی نعمتیں  عطا کر رہا ہے تو(جان لو کہ )یہ اس کے حق میں  اللّٰہ تعالیٰ کی طرف سے اِستدراج (یعنی خفیہ تدبیر) ہے۔( مسند امام احمد،مسند الشامیین،حدیث عقبۃ بن عامر الجہنی عن النبیصلی اللّٰہ علیہ وسلم،۶/۱۲۲،الحدیث:۱۷۳۱۳)
	لہٰذا ہر مسلمان کو چاہئے کہ اسے جب بھی کوئی نعمت ملے تو ا س پر اللّٰہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے اور اگر اس سے کوئی گناہ سَرزَد ہو جائے تو توبہ و اِستغفار کرنے میں  دیر نہ کرے۔
وَ اُمْلِیْ لَهُمْؕ-اِنَّ كَیْدِیْ مَتِیْنٌ(۴۵)
ترجمۂکنزالایمان: اور میں  انہیں  ڈھیل دوں  گا بے شک میری خفیہ تدبیر بہت پکی ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور میں  انہیں  ڈھیل دوں  گا، بیشک میری خفیہ تدبیر بہت پکی ہے۔
{وَ اُمْلِیْ لَهُمْ: اور میں  انہیں  ڈھیل دوں  گا۔} اس آیت کی ایک تفسیر یہ ہے کہ میں  ان کفار کو ان کی موت آنے تک ڈھیل دوں  گا ا س لئے انہیں  جلد سزا نہیں  دوں گا ، بے شک میرا عذاب بہت سخت ہے۔دوسری تفسیر یہ ہے کہ میں  ان کفار کو لمبی عمر عطا کر کے اور ان کی موت میں  تاخیر کر کے انہیں  ڈھیل دوں  گا تاکہ وہ اور گناہ کر لیں  لیکن وہ لوگ سمجھ رہے ہوں  گے کہ ان کی عمر لمبی ہونا ان کے حق میں  بہتر ہے،بیشک میری خفیہ تدبیر بہت پکی ہے۔( خازن، ن، تحت الآیۃ: ۴۵، ۴/۳۰۱، روح البیان، ن، تحت الآیۃ: ۴۵، ۱۰/۱۲۵، ملتقطاً)
کافروں  کو لمبی عمر ملنے کی حقیقت اور مسلمانوں  کے لئے نصیحت:
	کافروں  کو لمبی عمر ملنے اور مہلت دئیے جانے کے بارے میں  ایک اور مقام پر اللّٰہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ’’وَ  لَا  یَحْسَبَنَّ  الَّذِیْنَ  كَفَرُوْۤا  اَنَّمَا  نُمْلِیْ  لَهُمْ  خَیْرٌ  لِّاَنْفُسِهِمْؕ-اِنَّمَا  نُمْلِیْ  لَهُمْ  لِیَزْدَادُوْۤا  اِثْمًاۚ-وَ  لَهُمْ  عَذَابٌ  مُّهِیْنٌ‘‘(ال عمران:۱۷۸)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور کافر ہرگز یہ گمان نہ رکھیں  کہ ہم انہیں  جومہلت دے رہے ہیں  یہ ان کے لئے بہتر ہے ، ہم توصرف اس لئے انہیں  مہلت دے رہے ہیں کہ ان کے گناہ