Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
302 - 881
مَعَ الرّٰكِعِیْنَ‘‘(بقرہ:۴۳)
رکوع کرنے والوں  کے ساتھ رکوع کرو۔
	اور نماز ادا کرنے میں  سُستی کرنے والوں  کے بارے میں  فرماتا ہے: ’’اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ یُخٰدِعُوْنَ اللّٰهَ وَ هُوَ خَادِعُهُمْۚ-وَ اِذَا قَامُوْۤا اِلَى الصَّلٰوةِ قَامُوْا كُسَالٰىۙ-یُرَآءُوْنَ النَّاسَ وَ لَا یَذْكُرُوْنَ اللّٰهَ اِلَّا قَلِیْلًا‘‘(نساء:۱۴۲)
ترجمۂکنزُالعِرفان: بیشک منافق لوگ اپنے گمان میں  اللّٰہ کو فریب دینا چاہتے ہیں  اور وہی انہیں  غافل کرکے مارے گا اور جب نماز کے لئے کھڑے ہوتے ہیں  توبڑے سست ہوکر لوگوں کے سامنے ریاکاری کرتے ہوئے کھڑے ہوتے ہیں اور اللّٰہ کو بہت تھوڑا یاد کرتے ہیں ۔
	اور نمازیں  قضا کر کے پڑھنے والوں  کے بارے میں  فرماتا ہے: ’’ فَوَیْلٌ لِّلْمُصَلِّیْنَۙ(۴) الَّذِیْنَ هُمْ عَنْ صَلَاتِهِمْ سَاهُوْنَ‘‘(ماعون:۴،۵)
ترجمۂکنزُالعِرفان: تو ان نمازیوں  کے لئے خرابی ہے۔جو اپنی نماز سے غافل ہیں ۔
	اور نمازیں  ضائع کرنے والوں  کے بارے میں  فرماتا ہے: ’’فَخَلَفَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ خَلْفٌ اَضَاعُوا الصَّلٰوةَ وَ اتَّبَعُوا الشَّهَوٰتِ فَسَوْفَ یَلْقَوْنَ غَیًّا ‘‘(مریم:۵۹)
ترجمۂکنزُالعِرفان: تو ان کے بعد وہ نالائق لو گ ان کی جگہ آئے جنہوں  نے نمازوں  کو ضائع کیا اور اپنی خواہشوں کی پیروی کی تو عنقریب وہ جہنم کی خوفناک وادی غی سے جا ملیں  گے۔
	اورحضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبی اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’منافقین پر سب سے زیادہ گراں  نماز عشا اور فجر ہے اوراگر وہ جانتے کہ اس میں  کیا ہے؟ تو گھسٹتے ہوئے آتے اور بیشک میں  نے ارادہ کیا کہ نماز قائم کرنے کا حکم دوں  پھر کسی کو حکم فرماؤں  کہ لوگوں  کو نماز پڑھائے اور میں  اپنے ہمراہ کچھ لوگوں  کو جن کے پاس لکڑیوں  کے گٹھے ہوں  ان کے پاس لے کر جاؤں  جو نماز میں  حاضر نہیں  ہوتے اور ان کے گھر اُن