Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
301 - 881
سخت ہوجائیں  گی اور اس وقت ان کا حال یہ ہو گا کہ دنیا میں  ایمان قبول نہ کرنے اور سجدوں  کو ترک کرنے پر شرم وندامت سے ان کی نگاہیں  نیچی ہوں  گی،ان کے چہرے سیاہ ہو جائیں  گے اور ان پر ذلت چڑھ رہی ہوگی حالانکہ انہیں  رسولوں  کی (مُقَدّس) زبانوں  سے دنیا میں  سجدے کی طرف بلایا جاتا تھا اور اذانوں  اور تکبیروں  میں  حَیَّ عَلَی الصَّلٰوۃِ، حَیَّ عَلَی الْفَلَاحِ کے ساتھ انہیں  نماز اور سجدے کی دعوت دی جاتی تھی لیکن یہ تندرست ہونے کے باوجود سجدہ نہ کرتے تھے اور ان کے اسی عمل کا یہ نتیجہ ہے جو یہاں  سجدے سے محروم رہے ۔
	یاد رہے کہ جمہور علماء کے نزدیک یہاں  آیت میں ساق کھلنے سے مراد وہ شدت اور سختی ہے جو قیامت کے دن حساب اور جزا کے لئے پیش آئے گی اور اس وقت کے بارے میں  حضرت عبداللّٰہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں  کہ قیامت میں  وہ بڑا سخت وقت ہے ۔ آیت کا دوسرا معنیٰ یہ ہے کہ یہاں  محاورے والا معنیٰ مراد نہیں  ہے بلکہ یہ معنی ہے کہ جس دن ساق یعنی پنڈلی کھولی جائے گی۔ اس معنیٰ کے اعتبار سے یہ آیت مُتشابہات میں  سے ہے اور قرآنِ پاک یا اَحادیث میں  مذکور مُتشابہات کے بارے میں  اَسلا ف کا طریقہ یہ ہے کہ وہ ان کے معنیٰ میں  کلام نہیں  کرتے اور یہ فرماتے ہیں  کہ ہم اس پر ایمان لاتے ہیں  اور اس سے جو مراد ہے وہ اللّٰہ تعالیٰ کے سپرد کرتے ہیں ۔( خازن،ن، تحت الآیۃ: ۴۲-۴۳، ۴/۲۹۸،۳۰۱، مدارک، القلم، تحت الآیۃ: ۴۲-۴۳، ص۱۲۷۰، جمل، القلم، تحت الآیۃ:۴۲-۴۳،۸/۸۳-۸۴، عمدۃ القاری،کتاب تفسیر القرآن، سورۃ ن والقلم، باب یوم یکشف عن ساق، ۱۳/۴۳۲، تحت الحدیث: ۴۹۱۹، ملتقطاً)
نماز میں  سُستی کرنے والے مسلمانوں  کے لئے عبرت و نصیحت:
	 یہاں  آیت میں  بیان کی گئی وعید اگرچہ کفار اور منافقین کے لئے ہے کہ انہیں  سجدے کی طرف بلایا جائے گا تو وہ اس کی طاقت نہیں  رکھیں  گے کیونکہ دنیا میں  انہیں  خدا کے سامنے جھکنے کی طرف بلایا جاتا تھا تو یہ انکار کرتے تھے، یہ اگرچہ کفار کے بارے میں  ہے لیکن اس میں  ان مسلمانوں  کے لئے بھی بہت عبرت اور نصیحت ہے جو شرعی عذر نہ ہو نے کے باوجودنماز ادا نہیں  کرتے بلکہ بعض اوقات نماز ہی قضا کر دیتے ہیں  یا سرے سے نماز پڑھتے ہی نہیں ۔ جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کاحکم دیتے ہوئے ایک مقام پر اللّٰہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
’’وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ وَ ارْكَعُوْا
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور نماز قائم رکھو اور زکوٰۃ ادا کرو اور