وہ اپنے دعوے میں سچے ہیں تو اپنے ان شریکوں کو لے آئیں ۔حقیقت یہ ہے کہ وہ خود بھی سمجھتے ہیں کہ وہ باطل پر ہیں ، نہ اُن کے پاس کوئی ایسی کتاب ہے جس میں یہ مذکور ہو جو وہ کہتے ہیں ، نہ ان کے بارے میں اللّٰہ تعالیٰ کا کوئی عہد ہے، نہ ان کا کوئی ضامن اورنہ ہی کوئی ان سے موافقت کرتا ہے ۔( مدارک، القلم، تحت الآیۃ: ۴۰-۴۱، ص۱۲۷۰، جلالین، ن، تحت الآیۃ: ۴۰-۴۱، ص۴۷۰، ملتقطاً)
یَوْمَ یُكْشَفُ عَنْ سَاقٍ وَّ یُدْعَوْنَ اِلَى السُّجُوْدِ فَلَا یَسْتَطِیْعُوْنَۙ(۴۲) خَاشِعَةً اَبْصَارُهُمْ تَرْهَقُهُمْ ذِلَّةٌؕ-وَ قَدْ كَانُوْا یُدْعَوْنَ اِلَى السُّجُوْدِ وَ هُمْ سٰلِمُوْنَ(۴۳)
ترجمۂکنزالایمان: جس دن ایک ساق کھولی جائے گی (جس کے معنی اللّٰہ ہی جانتا ہے) اور سجدہ کو بلائے جائیں گے تو نہ کرسکیں گے۔ نیچی نگاہیں کئے ہوئے ان پر خواری چڑھ رہی ہوگی اور بے شک دنیا میں سجدہ کے لیے بلائے جاتے تھے جب تندرست تھے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: جس دن معاملہ بڑا سخت ہوجائے گا اور کافروں کوسجدے کی طرف بلایا جائے گا تو وہ (اس کی) طاقت نہ رکھیں گے۔ ان کی نگاہیں نیچی ہوں گی ،ان پر ذلت چڑھ رہی ہوگی اوربیشک انہیں (دنیا میں ) سجدے کی طرف بلایا جاتا تھا جبکہ وہ تندرست تھے۔
{یَوْمَ یُكْشَفُ عَنْ سَاقٍ: جس دن معاملہ بڑا سخت ہوجائے گا۔} اس آیت اور ا س کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ مشرکین اپنے شریکوں کو ا س دن لے آئیں جس دن ایک ساق کھولی جائے گی تاکہ وہ انہیں فائدہ پہنچائیں اور ان کی سفارش کریں اور(قیامت کے دن) کفار و منافقین کو ان کے ایمان کے امتحان اور دنیا میں سجدہ ریز نہ ہو نے پر ڈانٹ ڈپٹ کے طور پر سجدے کی طرف بلایا جائے گا تو وہ سجدہ نہ کرسکیں گے کیونکہ ان کی پشتیں تانبے کے تختے کی طرح