Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
299 - 881
ترجمۂکنزُالعِرفان: یا تمہارے لیے ہم پر قیامت کے دن تک پہنچتی ہوئی کچھ قسمیں  ہیں  کہ ضرور تمہیں  وہی کچھ ملے گا جو تم فیصلہ کرو گے۔
{اَمْ لَكُمْ اَیْمَانٌ عَلَیْنَا بَالِغَةٌ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ: یا تمہارے لیے ہم پر قیامت کے دن تک پہنچتی ہوئی کچھ قسمیں  ہیں۔} ارشاد فرمایا کہ اے کافرو!کیا ہم تمہارے بارے میں  ایسی قسمیں  فرما چکے ہیں  جو قیامت تک ہم پر لاز م ہیں  اور ہم ان قسموں  سے اس دن نکلیں  گے جس دن ہم تمہارے لئے یہ حکم کر دیں  کہ آج تمہیں  وہ سب کچھ ملے گا جو تم اپنے لئے اللّٰہ تعالیٰ کے نزدیک خیر و کرامت کا دعویٰ کرتے ہو؟( مدارک، القلم، تحت الآیۃ: ۳۹، ص۱۲۷۰، خازن، ن، تحت الآیۃ: ۳۹، ۴/۲۹۸، ملتقطاً)
سَلْهُمْ اَیُّهُمْ بِذٰلِكَ زَعِیْمٌۚۛ(۴۰) اَمْ لَهُمْ شُرَكَآءُۚۛ-فَلْیَاْتُوْا بِشُرَكَآىٕهِمْ اِنْ كَانُوْا صٰدِقِیْنَ(۴۱)
ترجمۂکنزالایمان: تم ان سے پوچھو ان میں  کون سا اس کا ضامن ہے۔ یا ان کے پاس کچھ شریک ہیں تو اپنے شریکوں  کو لے کر آئیں  اگر سچے ہیں ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: تم ان سے پوچھو کہ ان میں  کون اس کا ضامن ہے؟ یا ان کیلئے کچھ شریک ہیں  تو وہ اپنے شریکوں  کو لے آئیں  اگر سچے ہیں ۔
{سَلْهُمْ: تم ان سے پوچھو۔} اس آیت اور ا س کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی  اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو خطاب کرتے ہوئے ارشادفرمایا کہ اے پیارے حبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ ان کفار سے پوچھیں  کہ ان میں  سے کون اس بات کا ضامن ہے کہ آخرت میں  انہیں  مسلمانوں  سے بہتر یا اُن کے برابر ملے گا یا ان کے پاس کچھ شریک ہیں  جو اس دعوے میں  ان کی موافقت کررہے ہیں  اور وہ ان کے ذمہ دار بنے ہیں ، اگر