درجات ملنے کے معاملے میں مسلمانوں کو کافروں جیسا کردیں گے اور اُن مخلص فرمانبرداروں کو اِن سرکش باغیوں پر فضیلت نہ دیں گے! ہمارے بارے میں ایسا فاسد گمان رکھتے ہو،تمہیں کیا ہوا اور تم اپنی جہالت کی وجہ سے کیسا حکم لگا رہے ہو، تمہاری حالت سے تو ایسالگ رہا ہے جیسے جزا کا معاملہ تمہارے سپرد ہے اور تم اس میں جو چاہے فیصلہ کر لو ۔( مدارک، القلم، تحت الآیۃ: ۳۵-۳۶، ص۱۲۶۹، روح البیان، ن، تحت الآیۃ: ۳۵-۳۶، ۱۰/۱۱۹، ملتقطاً)
اس سے معلوم ہو اکہ کافر اور مسلمان برابر نہیں بلکہ یہ دو الگ الگ قومیں ہیں ۔
اَمْ لَكُمْ كِتٰبٌ فِیْهِ تَدْرُسُوْنَۙ(۳۷) اِنَّ لَكُمْ فِیْهِ لَمَا تَخَیَّرُوْنَۚ(۳۸)
ترجمۂکنزالایمان: کیا تمہارے لیے کوئی کتاب ہے جس میں پڑھتے ہو۔ کہ تمہارے لیے اس میں جو تم پسند کرو۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: کیا تمہارے لیے کوئی کتاب ہے جس میں تم (ایسی بات)پڑھتے ہو۔ کہ تمہارے لیے قیامت کے دن میں ضرور وہ سب کچھ ہے جو تم پسند کرو۔
{اَمْ لَكُمْ كِتٰبٌ: کیا تمہارے لیے کوئی کتاب ہے۔} اس آیت اور ا س کے بعد والی آیت کاخلاصہ یہ ہے کہ اے اللّٰہ تعالیٰ کے انعامات میں مسلمانوں اور کافروں کو برابر سمجھنے والو! کیا اللّٰہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی فرشتہ تمہارے پاس ایسی کتاب لے کر نازل ہو اہے جس میں لکھا ہو کہ تمہارے لئے (قیامت کے دن) وہ سب کچھ ہے جو تم پسند کرو اور اس میں سے پڑھ کر تم یہ بات کہتے ہو؟( تفسیر طبری، القلم، تحت الآیۃ: ۳۷-۳۸، ۱۲/۱۹۶)
اَمْ لَكُمْ اَیْمَانٌ عَلَیْنَا بَالِغَةٌ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِۙ-اِنَّ لَكُمْ لَمَا تَحْكُمُوْنَۚ(۳۹)
ترجمۂکنزالایمان: یا تمہارے لیے ہم پر کچھ قسمیں ہیں قیامت تک پہنچتی ہوئی کہ تمہیں ملے گا جو کچھ دعویٰ کرتے ہو۔