فرمایا کہ اے کفارِ مکہ ! جس طرح ہم نے باغ والوں کے ساتھ کیا اسی طرح جو ہماری حدوں سے تجاوُز کرے اور ہمارے حکم کی مخالفت کرے اس کے لئے بھی ہماری سزا ایسی ہی ہوتی ہے ،لہٰذا ہوش میں آؤ اور اپنا انجام خود سوچ لو کہ یہ تو دنیا کی سزا ہے اور بیشک آخرت کی سزا سب سے بڑی ہے۔ کیا ہی اچھا ہوتا اگر لوگ آخرت کے عذاب کو جانتے اور اس سے بچنے کے لئے اللّٰہ تعالیٰ اور ا س کے رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی فرمانبرداری کرتے ۔
اِنَّ لِلْمُتَّقِیْنَ عِنْدَ رَبِّهِمْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِ(۳۴)اَفَنَجْعَلُ الْمُسْلِمِیْنَ كَالْمُجْرِمِیْنَؕ(۳۵) مَا لَكُمْٙ-كَیْفَ تَحْكُمُوْنَۚ(۳۶)
ترجمۂکنزالایمان: بے شک ڈر والوں کے لیے ان کے رب کے پاس چین کے باغ ہیں ۔ کیا ہم مسلمانوں کو مجرموں سا کردیں ۔ تمہیں کیا ہوا کیسا حکم لگاتے ہو۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: بیشک ڈر والوں کے لیے ان کے رب کے پاس چین کے باغ ہیں ۔ توکیا ہم مسلمانوں کو مجرموں جیسا کردیں ۔ تمہیں کیا ہوا؟ کیسا حکم لگاتے ہو؟
{اِنَّ لِلْمُتَّقِیْنَ: بیشک ڈر والوں کے لیے۔} ارشاد فرمایا کہ کفر اور گناہوں سے بچنے والوں کے لئے آخرت میں ان کے رب عَزَّوَجَلَّ کے پاس ایسے باغ ہیں جن میں صرف نعمتیں ہی ہیں اور وہ دنیا کی نعمتوں کی طرح بدمزہ اور زائل ہونے کے خوف سے پاک ہیں ۔( ابو سعود، ن، تحت الآیۃ: ۳۴، ۵/۷۵۶)
{اَفَنَجْعَلُ الْمُسْلِمِیْنَ كَالْمُجْرِمِیْنَ: توکیا ہم مسلمانوں کو مجرموں جیسا کردیں ۔} شانِ نزول : جب اوپر والی آیت نازل ہوئی تو مشرکین نے مسلمانوں سے کہا کہ جس طرح ہمیں دنیا میں آسائش حاصل ہے اسی طرح اگر ہم مرنے کے بعد پھر اُٹھائے بھی گئے تو آخرت میں بھی ہم تم سے اچھے رہیں گے اور ہمارا ہی درجہ بلند ہوگا ، اس پر یہ آیات نازل ہوئیں اور اس آیت اور ا س کے بعد والی آیت میں اللّٰہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ کیا ہم نجات حاصل ہونے اور