انہوں نے باہم مشورہ کیا کہ مال قلیل ہے اور کنبہ بہت زیادہ ہے اس لئے اگر والد کی طرح ہم بھی خیرات جاری رکھیں تو تنگ دست ہوجائیں گے۔اس پر انہوں نے آپس میں مل کر قسمیں کھائیں کہ صبح سویرے لوگوں کے اٹھنے سے پہلے ہی باغ میں چل کر پھل توڑ لیں گے تاکہ مسکینوں کو خبر نہ ہو۔( تفسیرقرطبی،القلم، تحت الآیۃ: ۱۷، ۹/۱۸۰، الجزء الثامن عشر، مدارک، القلم، تحت الآیۃ: ۱۷، ص۱۲۶۸، خازن، ن، تحت الآیۃ: ۱۷، ۴/۲۹۶، ملتقطاً)
وَ لَا یَسْتَثْنُوْنَ(۱۸) فَطَافَ عَلَیْهَا طَآىٕفٌ مِّنْ رَّبِّكَ وَ هُمْ نَآىٕمُوْنَ(۱۹) فَاَصْبَحَتْ كَالصَّرِیْمِۙ(۲۰) فَتَنَادَوْا مُصْبِحِیْنَۙ(۲۱) اَنِ اغْدُوْا عَلٰى حَرْثِكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰرِمِیْنَ(۲۲) فَانْطَلَقُوْا وَ هُمْ یَتَخَافَتُوْنَۙ(۲۳) اَنْ لَّا یَدْخُلَنَّهَا الْیَوْمَ عَلَیْكُمْ مِّسْكِیْنٌۙ(۲۴) وَّ غَدَوْا عَلٰى حَرْدٍ قٰدِرِیْنَ(۲۵) فَلَمَّا رَاَوْهَا قَالُوْۤا اِنَّا لَضَآلُّوْنَۙ(۲۶) بَلْ نَحْنُ مَحْرُوْمُوْنَ(۲۷) قَالَ اَوْسَطُهُمْ اَلَمْ اَقُلْ لَّكُمْ لَوْ لَا تُسَبِّحُوْنَ(۲۸) قَالُوْا سُبْحٰنَ رَبِّنَاۤ اِنَّا كُنَّا ظٰلِمِیْنَ(۲۹) فَاَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ یَّتَلَاوَمُوْنَ(۳۰) قَالُوْا یٰوَیْلَنَاۤ اِنَّا كُنَّا طٰغِیْنَ(۳۱) عَسٰى رَبُّنَاۤ اَنْ یُّبْدِلَنَا خَیْرًا مِّنْهَاۤ اِنَّاۤ اِلٰى رَبِّنَا رٰغِبُوْنَ(۳۲)
ترجمۂکنزالایمان: اور اِنْ شَآئَ اللّٰہ نہ کہا۔ تو اس پر تیرے رب کی طرف سے ایک پھیری کرنے والا پھیرا کر گیا اور