Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
293 - 881
مُصْبِحِیْنَۙ(۱۷)
ترجمۂکنزالایمان: بیشک ہم نے انہیں  جانچا جیسا اس باغ والوں  کو جانچا تھاجب انہوں  نے قسم کھائی کہ ضرور صبح ہوتے اس کے کھیت کاٹ لیں  گے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: بیشک ہم نے انہیں  جانچا جیسا باغ والوں  کو جانچا تھا جب انہوں  نے قسم کھائی کہ ضرور صبح ہوتے اس باغ کو کاٹ لیں  گے۔
{اِنَّا بَلَوْنٰهُمْ كَمَا بَلَوْنَاۤ اَصْحٰبَ الْجَنَّةِ: بیشک ہم نے ان کو جانچا جیسا باغ والوں  کو جانچا تھا۔} اس آیت کا معنی یہ ہے کہ ہم نے کفارِ مکہ کو مال اور دولت شکر ادا کرنے کے لئے دی تھی نہ کہ تکبُّر و سرکشی کرنے کے لئے، تو جب انہوں  نے تکبر کیا اور میرے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے دشمنی مول لی تو ہم نے اپنے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی ا س دعا سے کہ یارب! عَزَّوَجَلَّ، انہیں  ایسی قحط سالی میں  مبتلا کر جیسی حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے زمانہ میں  ہوئی تھی،نیز کفارِ مکہ کو بھوک اور قحط کے ذریعے آزمائش میں  مبتلا کر دیا گیاجیسا کہ باغ والوں  کو کیا تھا۔چنانچہ کفارِ مکہ قحط کی مصیبت میں  اس قدر مبتلا کئے گئے کہ وہ بھوک کی شدّت میں  مُردار اور ہڈیاں  تک کھاگئے ۔
باغ والوں  کا واقعہ:
	اس آیت میں  جس باغ کی مثال دے کر ا س کا واقعہ بیان کیا گیااس کا نام ضردان تھا ، یہ باغ یمن کے شہر صنعاء سے دو فرسنگ(یعنی 6میل) کے فاصلے پر سر ِراہ واقع تھا ۔اس باغ کا مالک ایک نیک مرد تھا اور وہ باغ کے پھل کثرت سے فُقراء کو دیتا تھا،اس کی عادت یہ تھی کہ جب باغ میں  جاتا تو فقراء کو بلالیتا اورتمام گرے پڑے پھل فقراء لے لیتے ۔پھر باغ میں  بستر بچھادیئے جاتے اورجب پھل توڑے جاتے تو جتنے پھل بستروں  پر گرتے وہ بھی فقراء کو دے دیئے جاتے اور جو خالص اپنا حصہ ہوتا اس سے بھی وہ دسواں  حصہ فقراء کو دے دیتا، اسی طرح کھیتی کاٹتے وقت بھی اس نے فقراء کے حقوق بہت زیادہ مقرر کئے ہوئے تھے۔ اس کے انتقال کے بعد اس کے تین بیٹے وارث ہوئے،