Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
29 - 881
میں  ظہار کی مذمت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ تم میں  سے وہ لوگ جو اپنی بیویوں  سے ظہار کرتے ہیں  اور انہیں  اپنی ماں  جیسی کہہ بیٹھتے ہیں  ، یہ کہنے سے وہ ان کی مائیں  نہیں  ہوگئیں  بلکہ ان کی مائیں  تو وہی ہیں  جنہوں  نے انہیں  جنم دیا ہے اور بیشک ظہار کرنے والے بیویوں  کو ماں  کہہ کر ناپسندیدہ اور بالکل جھوٹ بات کہتے ہیں  ، بیوی کو کسی طرح ماں  کے ساتھ تشبیہ دینا ٹھیک نہیں اور بیشک اللّٰہ تعالیٰ انہیں  ضرور معاف کرنے والا اور بخشنے والا ہے۔( خازن، المجادلۃ، تحت الآیۃ: ۲، ۴/۲۳۶)
ظِہار کی تعریف اوراس سے متعلق4 شرعی اَحکام:
	 اس آیت میں  ظہار کرنے والوں  کا ذکر ہوا ،اس مناسبت سے یہاں  ظہار کی تعریف اور اس سے متعلق 4شرعی اَحکام ملاحظہ ہوں  ،چنانچہ صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  فرماتے ہیں  :ظہار کے یہ معنے ہیں  کہ اپنی زوجہ یا اُس کے کسی جُزْوِ شائع یا ایسے جز کو جو کُل سے تعبیر کیا جاتا ہو، ایسی عورت سے تشبیہ دینا جو اس پر ہمیشہ کے لیے حرام ہو، یا اس کے کسی ایسے عُضْوْ سے تشبیہ دینا جس کی طرف دیکھنا حرام ہو، مثلاً (بیوی سے ) کہا :تو مجھ پر میری ماں  کی مثل ہے، یا (یوں  کہا کہ) تیرا سر ،یا تیری گردن ،یا تیرا نصف میری ماں  کی پیٹھ کی مثل ہے۔( بہار شریعت، حصہ ہشتم، ظہار کا بیان، ۲/۲۰۵-۲۰۶)
	اور ظہار سے متعلق4شرعی اَحکام درج ذیل ہیں ،
(1)…جس عورت سے تشبیہ دی اگر اُس کی حرمت عارضی ہے ہمیشہ کے لیے نہیں  تو ظہار نہیں  (ہو گا) مثلاً (جس سے تشبیہ دی وہ )زوجہ کی بہن، یا جس کو تین طلاقیں  دی ہیں  ،یا مجوسی یا بت پرست عورت(ہے) کہ یہ مسلمان یا کتابیہ ہوسکتی ہیں  اور اِن کی حرمت دائمی نہ ہو نا ظاہر(ہے)۔(بہار شریعت، حصہ ہشتم، ظہار کا بیان، ۲/۲۰۶)
(2)…محارم سے مراد عام ہے نسبی ہوں  یا رضاعی یا سسرالی رشتہ سے، لہٰذا ماں  ،بہن ،پھوپھی ،لڑکی اور رضاعی ماں  اور بہن وغیرہما اور زوجہ کی ماں  اور لڑکی جبکہ زوجہ مدخولہ(یعنی اس سے حقِ زوجیّت ادا کیا) ہو،اور مدخولہ نہ ہو تو اُس کی لڑکی سے تشبیہ دینے میں  ظہار نہیں  کہ وہ محار م میں  نہیں ۔ یوہیں  جس عورت سے اُس کے باپ یا بیٹے نے  مَعَاذَ اللّٰہ زنا کیا ہے اُس سے تشبیہ دی یا جس عورت سے اس نے زنا کیا ہے اُس کی ماں  یا لڑکی سے تشبیہ دی تو ظہار ہے۔