اسے اندیشہ رہتاہے کہ کوئی ضروری چیز رہ نہ جائے اورجسے حساب کایقین ہوتاہے وہ عذاب سے ڈرتاہے۔حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کھڑے ہو کر ان کی نصیحت کوسنتے رہے اورجب کافی وقت گزرگیاتولوگوں نے عرض کی: اے امیرالمومنین !اس بڑھیاکے لیے آپ اتنی دیرکھڑے رہیں گے ۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا: خدا کی قسم !اگریہ مجھے صبح سے شام تک روک کر رکھے تومیں کھڑارہوں گا اورصرف نماز کے وقت میں رخصت لوں گا،کیاتم جانتے نہیں کہ یہ بوڑھی خاتون کون ہے؟ یہ حضرت خولہ بنت ِثعلبہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا ہے جس کی فریاد کو اللّٰہ تعالیٰ نے سات آسمانوں کے اوپرسنا،کیایہ ہوسکتاہے کہ ربُّ العالَمین تواس کی بات سنے اورعمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نہ سنے؟( قرطبی، المجادلۃ، تحت الآیۃ: ۱، ۹/۱۹۷، الجزء السابع عشر)
اَلَّذِیْنَ یُظٰهِرُوْنَ مِنْكُمْ مِّنْ نِّسَآىٕهِمْ مَّا هُنَّ اُمَّهٰتِهِمْؕ-اِنْ اُمَّهٰتُهُمْ اِلَّا اﻼ وَلَدْنَهُمْؕ- وَ اِنَّهُمْ لَیَقُوْلُوْنَ مُنْكَرًا مِّنَ الْقَوْلِ وَ زُوْرًاؕ-وَ اِنَّ اللّٰهَ لَعَفُوٌّ غَفُوْرٌ(۲)
ترجمۂکنزالایمان: وہ جو تم میں اپنی بیبیوں کو اپنی ماں کی جگہ کہہ بیٹھتے ہیں وہ ان کی مائیں نہیں ان کی مائیں تو وہی ہیں جن سے وہ پیدا ہیں اور وہ بے شک بُری اور نری جھوٹ بات کہتے ہیں اور بیشک اللّٰہ ضرور معاف کرنے والا اور بخشنے والا ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: تم میں سے وہ لوگ جو اپنی بیویوں کو اپنی ماں جیسی کہہ بیٹھتے ہیں وہ ان کی مائیں نہیں ،ان کی مائیں تو وہی ہیں جنہوں نے انہیں جنم دیا اور بیشک وہ ضرورناپسندیدہ اور بالکل جھوٹ بات کہتے ہیں اور بیشک اللّٰہ ضرور بہت معاف کرنے والا ، بہت بخشنے والا ہے۔
{اَلَّذِیْنَ یُظٰهِرُوْنَ مِنْكُمْ مِّنْ نِّسَآىٕهِمْ: تم میں سے وہ لوگ جو اپنی بیویوں کو اپنی ماں جیسی کہہ بیٹھتے ہیں ۔} اس آیت