Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
283 - 881
اپنی ذات کو تکلیف پہنچے یاان کا کوئی نقصان کر بیٹھے تو خوب شور مچاتے ہیں  اور بعض مسلمان کہلانے والے تو ایسے ہیں  کہ یہودیوں  ،عیسائیوں  اور دیگر کفار سے دوستی اور محبت کے رشتے قائم کرتے ، ان کی خاطراسلام کے بعض احکامات پر عمل کرنا چھوڑتے ، ان کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے ان کی مذہبی رسومات کا اہتمام کرتے ، ان کے ہاں  ان کی مذہبی رسومات میں  شرکت کرتے ،انہیں  مساجد میں  بلوا کراور مسلمانوں  سے اونچا بٹھا کر مسلمانوں  کو ان کی تقریریں  سنواتے اور ان سے اتحاد اور یگانگت کرنے کی کوششیں  کرتے اوردیگر مسلمانوں  کو اس کی ترغیب دینے کے لئے باقاعدہ پروگرام منعقد کرتے ہیں حالانکہ اللّٰہ تعالیٰ نے مسلمانوں  کو کفار و مشرکین سے دوستی کرنے اوران سے محبت کا رشتہ اُستوار کرنے سے منع کیا اور اس سے بچنے کا حکم دیا ہے اور کفار سے دوستی اور محبت کرنے کو منافقوں  کی خصلت بتایا ہے، چنانچہ منافقوں  کی اس خصلت کو بیان کرتے ہوئے اللّٰہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: ’’اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ نَافَقُوْا یَقُوْلُوْنَ لِاِخْوَانِهِمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ لَىٕنْ اُخْرِجْتُمْ لَنَخْرُجَنَّ مَعَكُمْ وَ لَا نُطِیْعُ فِیْكُمْ اَحَدًا اَبَدًاۙ-وَّ اِنْ قُوْتِلْتُمْ لَنَنْصُرَنَّكُمْؕ-وَ اللّٰهُ یَشْهَدُ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ‘‘(حشر:۱۱)
ترجمۂکنزُالعِرفان: کیا تم نے منافقوں  کو نہ دیکھا کہ اپنے اہلِ کتاب کافر بھائیوں  سے کہتے ہیں  کہ قسم ہے اگر تم نکالے گئے تو ضرور ہم تمہارے ساتھ نکلیں  گے اور ہرگز تمہارے بارے میں  کسی کا کہنا نہ مانیں  گے اور اگر تم سے لڑائی کی گئی تو ہم ضرور تمہاری مدد کریں  گے اور اللّٰہ گواہی دیتاہے کہ یقینا وہ ضرور جھوٹے ہیں ۔
	اور مسلمانوں  سے ارشاد فرمایا:
’’یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوا الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا دِیْنَكُمْ هُزُوًا وَّ لَعِبًا مِّنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَ الْكُفَّارَ اَوْلِیَآءَۚ-وَ اتَّقُوا اللّٰهَ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ‘‘(مائدہ:۵۷)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اے ایمان والو! جن لوگوں  کو تم سے پہلے کتاب دی گئی ان میں  سے وہ لوگ جنہوں  نے تمہارے دین کو مذاق اور کھیل بنالیا ہے انہیں  اور کافر وں  کو اپنا دوست نہ بناؤ اور اگر ایمان رکھتے ہو تو اللّٰہ سے ڈرتے رہو۔
	اور ارشاد فرمایا: