بھی نرم پڑجائیں ۔
{فَلَا تُطِعِ الْمُكَذِّبِیْنَ: تو تم جھٹلانے والوں کی بات نہ سننا۔} اس آیت اور ا س کے بعد والی آیت کاخلاصہ یہ ہے کہ اے پیارے حبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، جب آپ پر یہ سب واضح ہو چکا ہو تو آپ اُن کی اِس بات کونہ ماننے پر ثابت قدم رہیں کہ آپ انہیں (شرک سے روکنے اوربتوں کی مذمت کرنے سے) باز آجائیں تاکہ ہم بھی آپ کی (مخالفت کرنے سے) باز آجائیں ،کیونکہ ان مشرکین کی خواہش اور آرزو یہ ہے کہ آپ اپنے دین میں ان کے لئے اس طرح نرمی کرلیں کہ آپ ان کی بات مان کر ان کے بتوں کی پوجا کر لیں تو وہ بھی آپ کی بات مان کر آپ کے رب تعالیٰ کی عبادت کے معاملے میں نرمی کر لیں گے۔( روح البیان،ن، تحت الآیۃ: ۸-۹، ۱۰/۱۰۹، ابو سعود، ن، تحت الآیۃ: ۸-۹، ۵/۷۵۳، تفسیر طبری، ن، تحت الآیۃ: ۸-۹، ۱۰/۱۰۹، ملتقطاً)
{وَدُّوْا لَوْ تُدْهِنُ فَیُدْهِنُوْنَ: انہوں نے تو یہی خواہش رکھی کہ کسی طرح تم نرمی کرو تو وہ بھی نرم پڑجائیں ۔} مُداہَنَت یہ ہے کہ اپنی دنیا کی خاطر دین کے احکام میں خلافِ شرع نرمی برتنا جیسے لالچ کی وجہ سے یا کسی کے مرتبے کی رعایت کرتے ہوئے اسے برائی سے منع نہ کرنا یا منع کرنے پر قدرت نہ ہونے کی صورت میں اس کی برائی کو دل میں برا نہ جاننا اور مدارات یہ ہے کہ دین یا دنیا کی بہتری کے لئے کسی کے ساتھ دُنْیَوی معاملات سر انجام دینا جیسے کسی فاسق و گناہگار شخص کے گناہ کو دل میں برا جانتے ہوئے اس کے شر سے بچنے کے لئے یا اس نیت سے اس کے ساتھ نرم لہجے سے گفتگو کرنا اور خوش روئی سے پیش آنا کہ یہ اچھے اَخلاق سے مُتأثّر ہو کر گناہوں سے باز آ جائے گا۔
ہر مسلمان کو دین کے معاملے میں پختہ ہونا چاہئے:
لہٰذا ہر مسلمان کو اپنے دین کے معاملے میں پختہ ہو نا چاہیے اور دین کے معاملات میں کسی طرح کی نرمی اور رعایت سے کام نہیں لینا چاہئے لیکن افسوس کہ آج کل مسلمان اپنے نفسانی معاملات میں تو انتہائی سختی سے کام لیتے ہیں اور کسی طرح کی رعایت کرنے پر تیار نہیں ہوتے جبکہ دین کے معاملے میں بہت نرم اور پِلپِلے نظر آتے ہیں ،کسی کو برائی کرتے ہوئے،اسلام کے احکامات کوپامال کرتے ہوئے اور اسلام کے احکامات کا مذاق اُڑاتے ہوئے دیکھ کر، اسے روکنے پر قادر ہونے کے باوجوداس کی رعایت کرتے ہوئے یا کسی لالچ کی وجہ سے اسے نہیں روکتے اور جب کسی سے