Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
281 - 881
ان پر آپ کے معاملے کی حقیقت ظاہر ہوگی اور آپ کفار کو قتل کر کے اور ان کے مال بطورِ غنیمت حاصل کر کے ان پر غالب ہوں  گے اور جب قیامت کے دن حق باطل سے ممتاز ہو جائے گا تو آپ بھی جان جائیں  گے اور کفارِ مکہ بھی جان لیں  گے کہ جنون آپ پر تھا یا وہ خود مجنون اور پاگل تھے۔( جلالین مع صاوی،ن القلم، تحت الآیۃ: ۵-۶، ۶/۲۲۱۱-۲۲۱۲)
اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِیْلِهٖ۪-وَ هُوَ اَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِیْنَ(۷)
ترجمۂکنزالایمان: بے شک تمہارا رب خوب جانتا ہے جو اس کی راہ سے بہکے اور وہ خوب جانتا ہے جو راہ پر ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: بیشک تمہارا رب ہی خوب جانتا ہے اسے جو اس کی راہ سے بہکا اور وہ ہدایت والوں  کو بھی خوب جانتا ہے۔
{اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِیْلِهٖ: بیشک تمہارا رب ہی خوب جانتا ہے اسے جو اس کی راہ سے بہکا۔} یعنی اے پیارے حبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آ پ کا رب عَزَّوَجَلَّ ان لوگوں  کو خوب جانتا ہے جو حقیقت میں  مجنون ہیں  اور یہ وہ لوگ ہیں  جو میرے راستے سے بہک گئے کیونکہ انہوں  نے اپنی عقلوں  سے فائدہ نہیں  اٹھایا اور جو کچھ رسول لے کر آئے ان میں  اپنی عقلوں  کو استعمال نہیں  کیا، اور آپ کا رب عَزَّوَجَلَّ ان لوگوں  کو بھی خوب جانتا ہے جو در حقیقت عقلمند ہیں  اور یہ وہ لوگ ہیں  جو میرے راستے پر ہیں ۔( مدارک، القلم، تحت الآیۃ: ۷، ص۱۲۶۷، البحر المحیط، القلم، تحت الآیۃ: ۷، ۸/۳۰۳، ملتقطاً)
فَلَا تُطِعِ الْمُكَذِّبِیْنَ(۸)وَدُّوْا لَوْ تُدْهِنُ فَیُدْهِنُوْنَ(۹)
ترجمۂکنزالایمان: تو جھٹلانے والوں  کی بات نہ سننا۔وہ تو اس آرزو میں  ہیں  کہ کسی طرح تم نرمی کروتو وہ بھی نرم پڑجائیں ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: تو تم جھٹلانے والوں  کی بات نہ سننا۔انہوں  نے تو یہی خواہش رکھی کہ کسی طرح تم نرمی کرو تو وہ