Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
280 - 881
(1)…حضرت جابر بن سمرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،حضور پُر نور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’مسلمانوں  میں  سب سے زیادہ اچھا وہ ہے جس کے اَخلاق سب سے زیادہ اچھے ہیں  ۔( مسند امام احمد، مسند البصریین، حدیث جابر بن سمرۃ، ۷/۴۱۰، الحدیث: ۲۰۸۷۴)
(2)…حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ،حضورِ اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’بندہ حسنِ اخلاق کی وجہ سے دن میں  روزہ رکھنے اور رات میں  قیام کرنے والوں  کا درجہ پا لیتا ہے۔( معجم الاوسط،باب المیم، من اسمہ محمد، ۴/۳۷۲، الحدیث: ۶۲۸۳)
(3)…حضرت ابو درداء رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ،رسولِ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’میزانِ عمل میں  حسنِ اخلاق سے زیادہ وزنی کوئی چیز نہیں ۔( ابو داؤد، کتاب الادب، باب فی حسن الخلق، ۴/۳۳۲، الحدیث: ۴۷۹۹)
(4)…حضرت عبداللّٰہ بن عمرو رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے،رسولِ اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے تین مرتبہ یہ ارشاد فرمایا’’کیا میں  تمہیں  اس شخص کے بارے میں  نہ بتاؤں  جو قیامت کے دن تم میں  سب سے زیادہ مجھے محبوب اور سب سے زیادہ میری مجلس کے قریب گا۔ہم نے عرض کی: یا رسولَ اللّٰہ! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، کیوں  نہیں ! ارشاد فرمایا’’یہ وہ شخص ہو گا جس کے اَخلاق تم میں  سب سے زیادہ اچھے ہوں  گے ۔( مسند امام احمد، مسند عبد اللّٰہ بن عمرو بن العاص، ۲/۶۷۹، الحدیث: ۷۰۵۶)
فَسَتُبْصِرُ وَ یُبْصِرُوْنَۙ(۵) بِاَىیِّكُمُ الْمَفْتُوْنُ(۶)
ترجمۂکنزالایمان: تو اب کوئی دم جاتا ہے کہ تم بھی دیکھ لو گے اور وہ بھی دیکھ لیں  گے۔کہ تم میں  کون مجنون تھا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: تو جلد ہی تم بھی دیکھ لو گے اور وہ بھی دیکھ لیں  گے۔کہ تم میں  کون مجنون تھا۔
{فَسَتُبْصِرُ: تو جلد ہی تم بھی دیکھ لو گے۔} اس سے پہلی آیات میں  اللّٰہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر لگائے گئے کفار کے الزام کا جواب دیا اور اپنے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی عظمت و شان کو بیان کیا اور اس آیت اور اس کے بعد والی آیت میں  ارشاد فرمایا کہ اے پیارے حبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، جب دنیا میں