Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
279 - 881
کی خاطر مکہ مکرمہ میں حضور پُر نور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی خدمت میں  پہنچے اور عرض کیا: اے ہاشم کی اولاد! اپنی قوم کے سردار! تم لوگ حرم کے رہنے والے ہو اور اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے گھر کے پڑوسی ہو،تم خود قیدیوں  کو رہا کراتے ہو، بھوکوں  کو کھانا کھلاتے ہو۔ ہم اپنے بیٹے کی طلب میں  تمہارے پا س پہنچے ہیں  ہم پر احسان فرماؤ اور کرم کرو۔ فدیہ قبول کرو اور اس کو رہا کردو بلکہ جو فدیہ ہو اس سے زیادہ لے لو۔ حضورِ اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا: بس اتنی سی بات ہے!عرض کیا حضور!  بس یہی عرض ہے۔ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: زیدکو بلا ؤاور اس سے پوچھ لو اگر وہ تمہارے ساتھ جانا چاہے تو بغیر فدیہ ہی کے وہ تمہاری نذرہے اور اگر نہ جانا چاہے تو میں  ایسے شخص پر جَبر نہیں  کرسکتا جو خود نہ جاناچاہے ۔چنانچہ حضرت زید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ بلائے گئے اور آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا: تم ان کو پہچانتے ہو ؟عرض کی:جی ہاں  پہچانتا ہوں  یہ میرے باپ ہیں  اور یہ میرے چچا۔ حضور اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا کہ میرا حال بھی تمہیں  معلوم ہے۔ اب تمہیں اختیار ہے کہ میرے پاس رہنا چاہو تو میرے پاس رہو، ان کے ساتھ جانا چاہوتو اجازت ہے۔ حضرت زید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے عرض کیا :حضور!میں  آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے مقابلے میں  بھلا کس کو پسند کرسکتا ہوں ، آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ میرے لئے باپ کی جگہ بھی ہیں  اور چچا کی جگہ بھی ہیں  ۔ ان دونوں  باپ چچا نے کہا کہ زید! غلامی کو آزادی پر ترجیح دیتے ہو؟باپ چچا اور سب گھر والوں  کے مقابلہ میں  غلام رہنے کو پسند کرتے ہو؟ حضرت زید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا کہ ہاں ! میں نے ان میں  ایسی بات دیکھی ہے جس کے مقابلے میں  کسی چیزکو بھی پسند نہیں  کرسکتا۔ حضور پُر نور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے جب یہ جواب سنا تو ان کو گودمیں  لے لیا اور فرمایا کہ میں  نے اس کو اپنا بیٹا بنا لیا۔حضرت زید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے باپ اور چچا بھی یہ منظر دیکھ کر بہت خوش ہوئے اور خوشی سے ان کو چھوڑ کرواپس چلے گئے۔( الاصابہ فی تمییز الصحابہ، حرف الزای المنقوطۃ، زید بن حارثۃ بن شراحیل الکعبی، ۲/۴۹۵)
اَخلاقِ حَسنہ کی تعلیم:
	حضور پُر نور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے اخلاقِ کریمہ کی عظمت و بزرگی کا ایک پہلو اس سے بھی واضح ہوتا ہے کہ آپ نے اپنی امت کو بھی اَخلاقِ حَسنہ اپنانے کی تعلیم اور ترغیب دی ہے ،اس سے متعلق یہاں  4اَحادیث ملاحظہ ہوں،چنانچہ