Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
27 - 881
اور دیکھ ، رسولِ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے چہرۂ مبارک پر وحی کے آثار ظاہر ہیں ۔ جب وحی پوری ہوگئی تو ارشاد فرمایا: ’’ اپنے شوہر کو بلاؤ۔حضرت اوس  رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ  حاضر ہوئے تو حضورِ اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے یہ آیتیں  پڑھ کر سنائیں ۔
	اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اے پیارے حبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ،بیشک اللّٰہ تعالیٰ نے اس عورت کی بات سن لی جو اپنے شوہر کے معاملے میں  آپ سے بحث کررہی ہے اور اللّٰہ تعالیٰ کی بارگاہ میں  اپنے حال،فاقے اور تنہائی کے شدید ہونے کی شکایت کرتی ہے اور اللّٰہ تعالیٰ تم دونوں  کی آپس میں  ہونے والی گفتگو سن رہا ہے، بیشک جو اللّٰہ تعالیٰ سے مناجات کرے اور اس کی بارگاہ میں  گریہ و زاری کرے تواللّٰہ تعالیٰ اس کی مناجات کو سننے والا اور شکایت ُکنِندہ کو دیکھنے والاہے۔( خازن، المجادلۃ، تحت الآیۃ: ۱، ۴/۲۳۵، مدارک، المجادلۃ، تحت الآیۃ: ۱، ص۱۲۱۵، ملتقطاً)
	نوٹ:خیال رہے کہ حضرت خولہ بنت ِثعلبہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی  عَنْہَا کاسرکارِدو عالَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  سے بحث وتکرارکرنامخالفت یامقابلہ کی وجہ سے نہیں  تھا بلکہ کرم طلب کرنے کے لیے تھا اوراس سے اپنے دکھ درد کا اظہار مقصود تھا اور حضورِ اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی امت چونکہ آپ کی باندی غلام ہیں  اس لئے کرم طلب کرنے کے لئے آپ سے عرض و معروض کر سکتے ہیں ،نیز یاد رہے کہ اللّٰہ تعالیٰ کی بارگاہ میں  ہرشکایت کرنی بری نہیں  بلکہ بے صبری والی شکایت کرنابراہے ۔
حضرت خولہ بنت ِثعلبہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی  عَنْہَا کا احترام:
	حضرت خولہ بنت ِثعلبہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی  عَنْہَا کو حاصل ہونے والی اس خصوصیت کی وجہ سے صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی  عَنْہُمْآپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی  عَنْہَا کابہت احترام کیاکرتے تھے ۔چنانچہ حضرت عمرفارو ق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ اپنے دورِ خلافت میں  ایک بار حضرت خولہ بنت ِثعلبہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی  عَنْہَا کے پاس سے گزرے،اس وقت آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ درازگوش پرسوارتھے اورلوگوں  کاایک ہجوم ساتھ تھا۔حضرت خولہ بنت ِثعلبہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی  عَنْہَا نے ان کوروک لیااورنصیحت کرتے ہوئے کہا:اے عمر! رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ ،وہ دن تجھے یاد ہیں  جب تمہیں  عمیرکہاجاتاتھا،پھرعمرکہاجانے لگااوراب تمہیں  لوگ امیرالمومنین کہنے لگے ہیں ،تو اے عمر! رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ ، اللّٰہ تعالیٰ سے ڈرتے رہاکرو،جوشخص موت پریقین رکھتاہے