’’وَ اَنْزَلَ اللّٰهُ عَلَیْكَ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ عَلَّمَكَ مَا لَمْ تَكُنْ تَعْلَمُؕ-وَ كَانَ فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكَ عَظِیْمًا‘‘(النساء:۱۱۳)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور اللّٰہ نے آپ پر کتاب اور حکمت نازل فرمائی اور آپ کو وہ سب کچھ سکھا دیا جو آپ نہ جانتے تھے اور آپ پر اللّٰہ کا فضل بہت بڑا ہے۔
اور اپنے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے عمل مبارک کے بارے میں ارشاد فرمایا:
’’وَ اِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِیْمٍ‘‘
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور بیشک تم یقینا عظیم اخلاق پر ہو۔
اس سے معلوم ہوا کہ سیّد المرسَلین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ علم اور عمل دونوں اعتبار سے کامل اور جامع ہیں ۔
سرکارِ دو عالَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے اَخلاقِ کریمہ سے متعلق ایک عظیم واقعہ:
ویسے تواَحادیث اور سیرت کی کتابوں میں سیّدالمرسَلین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے اَخلاقِ کریمہ کے بے شمار واقعات مذکور ہیں جنہیں اِختصار کے ساتھ بھی یہاں بیان کرنا ممکن نہیں ، البتہ ہم ایک ایساواقعہ ذکر کرتے ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ بڑے تو بڑے سہی چھوٹے بچے تک بھی تاجدارِ رسالت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے اَخلاقِ کریمہ سے بہت مُتأثّر تھے اور کسی صورت بھی آپ کے دامنِ اقدس سے جدائی انہیں برداشت نہ تھی۔چنانچہ حضرت زید بن حارثہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ زمانۂ جاہلیَّت میں اپنی والدہ کے ساتھ ننھیال جارہے تھے کہ بنو قین نے وہ قافلہ لوٹ لیا اور حضرت زید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو مکہ میں لاکر بیچ دیا۔ حکیم بن حزام نے اپنی پھوپھی حضرت خدیجہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے لئے ان کو خریدلیا۔ جب حضورِ اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا نکاح حضرت خدیجہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے ہوا تو انھوں نے زید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو حضورِ اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی خدمت میں بطورِ ہدیہ پیش کر دیا۔ حضرت زید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے والد کو ان کی جدائی کا بہت صدمہ تھا اور وہ حضرت زید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی جدائی میں اَشعار پڑھتے اور روتے ہوئے ڈھونڈتے پھر اکرتے تھے۔ اتفاق سے ان کی قوم کے چند لوگوں کا حج کی غرض سے مکہ جانا ہوا تووہاں انہوں نے حضرت زید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو پہچان لیا اورجب وہ حج سے واپس گئے تو انہوں نے حضرت زید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی خیر و خبران کے باپ کو سنائی ۔حضرت زید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے باپ اور چچا فدیہ کی رقم لے کر ان کو غلامی سے چھڑانے