کر اضافے کے ساتھ سرکارِ دو عالَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو بھی ملے گا ،اسی طرح قیامت تک سلسلہ در سلسلہ جتنے لوگ مسلمان ہوتے جائیں گے اور نیک اعمال کرتے جائیں گے سب کے مسلمان ہونے ا ور نیک اعمال کرنے کا ثواب بے انتہا اضافے کے ساتھ سیّد المرسَلین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو بھی ملے گا۔اسی طرح کا مضمون علامہ عبد الرؤف مناوی رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے’’ فیض القدیر‘‘ کی جلد نمبر11 کے صفحہ نمبر5789 پر امام مقریزی رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے حوالے سے ذکر کیا ہے۔اور ہدایت کی دعوت دینے والوں اور دین میں اچھا طریقہ جاری کرنے والوں کے بارے میں حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ،رسولِ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’جس شخص نے ہدایت کی دعوت دی اسے اس ہدایت کی پیروی کرنے والوں کے برابر اجر ملے گا اور ان کے اجروں میں کوئی کمی نہیں ہو گی اور جس شخص نے کسی گمراہی کی دعوت دی اسے اس گمراہی کی پیروی کرنے والوں کے برابر گناہ ہو گا اور ان کے گناہوں میں کوئی کمی نہیں ہوگی۔(مسلم، کتاب العلم، باب من سنّ سنۃ حسنۃ... الخ، ص۱۴۳۸، الحدیث: ۱۶(۲۶۷۴))
اورحضرت جریر بن عبداللّٰہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،سیّد المرسَلین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’ جس شخص نے مسلمانوں میں کسی نیک طریقے کی ابتداء کی اور ا س کے بعد ا س طریقے پر عمل کیا گیا تو اس طریقے پر عمل کرنے والوں کا اجر بھی ا س کے نامۂ اعمال میں لکھا جائے گا اور عمل کرنے والوں کے اجر میں کمی نہیں ہو گی اور جس شخص نے مسلمانوں میں کسی برے طریقے کی ابتداء کی اور ا س کے بعد ا س طریقے پر عمل کیا گیا تو ا س طریقے پر عمل کرنے والوں کاگناہ بھی اس شخص کے نامۂ اعمال میں لکھا جائے گا اور عمل کرنے والوں کے گناہ میں کوئی کمی نہیں ہو گی۔( مسلم، کتاب العلم، باب من سنّ سنۃ حسنۃ... الخ، ص۱۴۳۷، الحدیث: ۱۵(۱۷۱۰))
سیّد العالَمین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا صبر،حِلم اور عَفْوْ و درگُزر:
یہاں تاجدارِ رسالت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے صبر، حِلم اور عَفْوْ و در ُگزر کی کچھ جھلک ملاحظہ ہو، چنانچہ حدیث اور سیرت کی کتابوں میں مذکور ہے کہ نبی اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے کسی سے اپنی ذات کا بدلہ نہیں لیا بلکہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ زیادتی کرنے والوں کے عمل پر حِلم اور صبر کا مظاہرہ کرتے اوران سے در گزر فرماتے حتّٰی کہ جان کے دشمنوں کو بھی معاف کر دیا کرتے تھے، چنانچہ یہاں اِختصار کے ساتھ اس کی چار مثالیں ملاحظہ ہوں :