وَ اِنَّ لَكَ لَاَجْرًا غَیْرَ مَمْنُوْنٍۚ(۳)
ترجمۂکنزالایمان: اور ضرور تمہارے لیے بے انتہا ثواب ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور یقینا تمہارے لیے ضرور بے انتہا ثواب ہے۔
{وَ اِنَّ لَكَ لَاَجْرًا غَیْرَ مَمْنُوْنٍ: اور یقینا تمہارے لیے ضرور بے انتہا ثواب ہے۔} ار شاد فرمایا کہ اے پیارے حبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، ضرور تمہارے لیے رسالت کی تبلیغ، نبوت کے اِظہار ،مخلوق کو اللّٰہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے اور کفار کی ان بے ہودہ باتوں ، اِفتراؤں اور طعنوں پر صبر کرنے کا بے انتہاء ثواب ہے لہٰذا کفار جو آپ کی طرف جنون کی نسبت کر رہے ہیں آپ اسے خاطر میں نہ لائیے اور رسالت کی تبلیغ کے اہم کام کو جاری رکھئے۔( خازن، ن، تحت الآیۃ: ۳، ۴/۲۹۴)
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ لکھتے ہیں : ’’حق جَلَّ وَ عَلَا نے فرمایا:
’’وَ اِنَّ لَكَ لَاَجْرًا غَیْرَ مَمْنُوْنٍ‘‘
اور بے شک تیرے لیے اجر بے پایاں ہے۔
کہ تو ان دیوانوں کی بدزبانی پر صبر کرتا اور حِلم وکرم سے پیش آتا ہے ۔مجنون تو چلتی ہوا سے اُلجھا کرتے ہیں ، تیرا سا حِلم وصبر کوئی تمام عالَم کے عقلاء میں تو بتادے ۔( فتاوی رضویہ، ۳۰/۱۶۴)
رسولِ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو ملنے والا ثواب:
یاد رہے کہ تمام مسلمانوں کی نیکیوں کا ثواب اضافے در اضافے کے ساتھ نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے نامۂ اعمال میں درج ہوتا ہے،مثال کے طور پررسولِ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے جتنے لوگوں کو مسلمان کیا تو انہیں مسلمان کرنے کا ثواب حضور پُر نور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو ملے گا اور ان کے تمام نیک اعمال کا ثواب ان کے ساتھ ساتھ حضورِ اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو بھی ملے گا،اسی طرح ان مسلمانوں نے آگے جتنے لوگوں کو مسلمان کیا تواُن کو مسلمان کرنے کا اور ان کی نیکیوں کاثواب اِن مسلمانوں کو بھی ملے گا اور ان کے ثواب کے ساتھ مل