(1)… لبید بن اعصم یہودی نے جب آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر جادو کیا تو اس کے بارے میں معلوم ہوجانے کے باوجود بھی اسے کوئی سزا نہ دی۔
(2)… یہودی عورت زینب نے گوشت میں زہر ملا کر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو کھلا دیا تو اپنی ذات کی وجہ سے اس سے کوئی بدلہ نہ لیا البتہ جب اس زہر کے اثر سے ایک صحابی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ انتقال فرما گئے تو اس عورت پر شرعی سزا نافذ فرمائی ۔
(3)…غورث بن حارث نے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو شہید کرنے کی کوشش کی تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اس پر غالب آ جانے کے باوجود اسے معاف کر دیا۔
(4)…کفارِ مکہ نے وہ کونسا ایساظالمانہ برتاؤ تھا جو آپ کے ساتھ نہ کیا ہو لیکن فتحِ مکہ کے دن جب یہ سب جَبّارانِ قریش مہاجرین و اَنصار کے لشکروں کے محاصرہ میں مجبور ہو کر حرمِ کعبہ میں خوف اور دہشت سے کانپ رہے تھے اور انتقام کے ڈر سے ان کے جسم کا رُوآں رُوآں لرز رہا تھا تو رسولِ رحمت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ان مجرموں کو یہ فرما کر چھوڑ دیا کہ جاؤ آج تم سے کوئی مُؤاخذہ نہیں ،تم سب آزاد ہو۔
مختصر یہ کہ حضور پُر نور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی پوری سیرتِ طیبہ میں صبر، حِلم اور عَفْو و درگُزر کی اتنی مثالیں موجود ہیں کہ جنہیں شمار کیا جائے تو ایک انتہائی ضخیم کتاب مُرَتَّب ہو سکتی ہے۔
وَ اِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِیْمٍ(۴)
ترجمۂکنزالایمان: اور بیشک تمہاری خوبو بڑی شان کی ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور بیشک تم یقینا عظیم اخلاق پر ہو ۔
{وَ اِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِیْمٍ: اور بیشک تم یقینا عظیم اَخلاق پر ہو۔} علامہ علی بن محمد خازن رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : ’’یہ آیت گویا کہ ’’مَاۤ اَنْتَ بِنِعْمَةِ رَبِّكَ بِمَجْنُوْنٍ‘‘ کی تفسیر ہے کیونکہ تاجدارِ رسالت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ