عالِم، صاحب ِکتب واَخبار تھے’’فرماتے ہیں کہ میں نے مُتَقَدِّمین کی 71کتابیں پڑھی ہیں ،میں نے ان تما م کتابوں میں پایا کہ حق سُبْحَانَہٗ وَتَعَالٰی نے دنیا کے آغاز سے لے کر دنیا کے انجام تک تما م لوگوں کو جس قدر عقلیں عطا فرمائی ہیں ان سب کی عقلیں نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی عقلِ مبارک کے مقابلے میں یوں ہیں جیسے دنیا بھر کے ریگستانوں کے مقابلے میں ایک ذرہ ہے ،آپ کی رائے ان سب سے افضل و اعلیٰ ہے۔
عوارفُ المعارف میں بعض علماء سے نقل کیا ہے’’پوری عقل کے سو حصے ہیں ،ان میں سے ننانوے حصے حضورِ اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ میں ہیں اور ایک حصہ تما م مسلمانوں میں ہے۔
بندۂ مسکین کہتا ہے (یعنی شیخ عبد الحق محدّثِ دہلوی رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ) کہ اگر وہ یوں کہیں کہ عقل کے ہزار حصے ہیں جن میں سے نو سو ننانوے حصے حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ میں ہیں اور ایک حصہ تمام لوگوں میں ہے تو اس کی بھی گنجائش ہے، ا س لئے کہ جب آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ میں بے انتہاء کمال ثابت ہے تو (آپ کی شان میں معبود ہونے کے علاوہ) جو کچھ بھی کہا جائے گا بجا ہو گا۔اس پر اگر حاسدوں کا سینہ جلے اور گمراہوں کادل تنگ ہوتو اس کا کوئی علاج نہیں اللّٰہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ’’اِنَّاۤ اَعْطَیْنٰكَ الْكَوْثَرَؕ ‘‘(کوثر:۱)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اے محبوب! بیشک ہم نے تمہیں بے شمار خوبیاں عطا فرمائیں ۔
اور فرمایا: ’’ اِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْاَبْتَرُ‘‘(کوثر:۳)
ترجمۂکنزُالعِرفان: بیشک جو تمہارا دشمن ہے وہی ہر خیر سے محروم ہے۔
(مدارج النبوہ، باب دوم دربیان اخلاق وصفا، وصل دربیان عقل وعلم، ۱/۵۳)
اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کیا خوب فرماتے ہیں :
ملکِ خاصِ کبریا ہو مالکِ ہر ما سوا ہو
کوئی کیا جانے کہ کیا ہو عقلِ عالَم سے ورا ہو