نظری علوم معلوم ہوتے ہیں اور عقل کے وجودکا آغاز بچے کی پیدائش کے ساتھ ہے،پھر وہ رفتہ رفتہ نشو و نَما پاتا ہے یہاں تک کہ بالغ ہونے کے وقت کامل ہو جاتا ہے اور حضورِ اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ عقل اور علم میں کمال کے اس مرتبے پر تھے کہ آپ کے علاوہ کوئی بشر اس درجے تک نہیں پہنچا،اللّٰہ تعالیٰ نے جو کچھ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر فیضان فرمایا ان میں سے بعض پر عقول و اَفکار حیران ہیں اور جو بھی آپ کے اَحوال کی کَیفِیَّتوں اور آپ کی صفاتِ حمیدہ اور محاسنِ اَفعال کی تلاش و جُستجو کرتا ہے اور جوامع الکَلِم، حسنِ شمائل،نادر ولطیف خصائل،لوگوں کی سیاسی تدبیر،شرعی اَحکام کا اظہار وبیان،آدابِ جلیلہ کی تفاصیل،اَخلاقِ حسنہ کی ترغیب و تحریص،آسمانی کتابوں اور ربانی صحیفوں پر آپ کا عمل،گزشتہ امتوں کے تاریخی حالات،سابقہ دنوں کے اَحوال،کہاوتوں اور ان کے وقائع اور احوال کا بیان،اہلِ عرب جو کہ چوپایوں اور درندوں کی مانند تھے، جن کی طبیعتیں جہل و جفا اور نادانی و شقاوت کی بنا پر مُتَنَفِّر اور دور رہنے والی تھیں ، ان کی اصلاح و تدبیر،ان کے ظلم و جفا اور ایذا و تکلیفوں پر آپ کا صبر و تحَمُّل،پھر ان کوعلم و عمل،حسنِ اَخلاق اور اعمال میں انتہائی درجے تک پہنچانا،انہیں دنیا و آخرت کی سعادتوں سے بہرہ ور کرناپھر کس طرح ان کا ان سعادتوں کو اپنے نفسوں پر اختیار کرنا اوران کا اپنے گھروں ،دوستوں ،عزیزوں کو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی خوشنودی کی خاطر چھوڑ دینا۔ ان سب چیزوں کا اگر کوئی مطالعہ کرے تو وہ جان لے گا کہ حضورِ اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی عقل کامل اور آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا عمل کس مرتبہ و مقام پر تھا۔جو بھی آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے اَحوال شریف کو ابتداء سے انتہاء تک مطالعہ کرے گا وہ دیکھے گا کہ پروردگارِ عالَم نے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو کتنا علم عطا فرمایا اور آپ پر ا س کا کتنا فیضان ہے اورمَاکَانَ وَمَا یَکُوْنُ یعنی گزشتہ و آئندہ کے علوم و اَسرار بدیہی طور پر کس طرح حاصل ہیں تو وہ شک و شُبہ اور وہم و خیال کے بغیر علمِ نبوت کو جان لے گا۔چنانچہ حق تعالیٰ نے حضورِ اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّمَ کی مدح و ثنا اور وفورِ علم کے بارے میں فرمایا:
’’وَ عَلَّمَكَ مَا لَمْ تَكُنْ تَعْلَمُؕ-وَ كَانَ فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكَ عَظِیْمًا‘‘(نساء:۱۱۳)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور آپ کو وہ سب کچھ سکھا دیا جو آپ نہ جانتے تھے اور آپ پر اللّٰہ کافضل بہت بڑا ہے۔
حضرت وہب بن منبہ رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ جو کہ تابعی ، سندکے حوالے سے قابلِ اعتماد ،ہمیشہ سچ بولنے والے