کی جاہلانہ گفتگو کا ذکر ہے جس کے مطالعہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ بدبخت طرح طرح سے انبیاء ِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی بارگاہ میں سخت کلامی اوربیہودہ گوئی کرتے اور وہ مُقَدّس حضرات اپنے عظیم حِلم اور فضل کے لائق انہیں جواب دیتے، لیکن حضورسیّد المرسَلین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی خدمتِ والا میں کفار نے جو زبان درازی کی ہے اس کا جواب زمین و آسمان کی سلطنت کے مالک رب تعالیٰ نے خود دیا ہے اور محبوبِ اکرم، مطلوبِ اعظم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی طرف سے خوددفاع فرمایا ہے اورطرح طرح سے حضور پُر نور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی (کفار کے الزامات سے) پاکی اور براء ت ارشاد فرمائی ہے اور بکثرت مقامات پر دشمنوں کے الزامات دور کرنے پر قسم یاد فرمائی ،یہاں تک کہ غنی اور غنی کرنے والے رب تعالیٰ نے ہر جواب سے حضورِ اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو بے نیاز کر دیا،اور اللّٰہ تعالیٰ کا جواب دینا حضورِ اَنور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے خود جواب دینے سے بدرجَہا حضور پُر نور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے لیے بہتر ہوااور یہ وہ مرتبۂ عُظمیٰ ہے جس کی کوئی انتہاء نہیں ۔( فتاوی رضویہ، ۳۰/۱۶۲-۱۶۴، ملخصاً)
سیّد المرسَلین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی مبارک عقل:
نیز کفار کے اس اعتراض سے ان کی جہالت اور بیوقوفی بھی واضح ہے کیونکہ مجنون وہ ہوتا ہے جس کی عقل سلامت نہ رہے جبکہ اللّٰہ تعالیٰ کے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی عقل مبارک تو ایسی تھی کہ کسی بشر میں اس کی مثال ملنا ممکن ہی نہیں اور اللّٰہ تعالیٰ نے جیسی عقل آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو عطا فرمائی ہے ویسی کسی اور کو عطا ہی نہیں کی تو پھر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی طرف جنون کی نسبت کرنا جہالت کے سوا اور کیا ہے۔عقل کی تعریف اور نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی عقل مبار ک کے بارے میں بیان کرتے ہوئے حضرت علامہ شیخ عبد الحق محدّثِ دہلوی رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : ’’عقل کی حقیقت کے بارے میں لوگوں کا اختلاف ہے، (لغت کی کتاب) قاموس میں کہا گیا ہے کہ عقل،چیزوں کے حسن و قباحت اور ان کے کمال و نقصان کی صفات کے علم کا نام ہے اور یہ علم عقل کے نتائج اور ثمرات سے حاصل ہوتا ہے اور عقل ایسی قوت ہے جو اس علم کا مَبداء اور سرچشمہ ہے۔اور بیان کیا کہ کہا جاتا ہے کہ انسان کی حرکات و سَکَنات میں محمود ہَیئت کا نام عقل ہے،حالانکہ یہ بھی عقل کے خواص اور آثار کی قسم سے ہے۔ (عقل کی تعریف کے بارے میں ) قولِ حق جسے علماء نے بیان کیا ،یہ ہے کہ عقل ایک روحانی نور ہے جس سے ضروری اور