اور سننِ ابو داؤد کی روایت میں ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ نے قلم سے ارشاد فرمایا’’قیامت تک جو چیزیں ہوں گی سب کی تقدیریں لکھ دے۔( ابو داؤد، کتاب السنۃ،باب القدر، ۴/۲۹۸، الحدیث: ۴۷۰۰)
مَاۤ اَنْتَ بِنِعْمَةِ رَبِّكَ بِمَجْنُوْنٍۚ(۲)
ترجمۂکنزالایمان: تم اپنے رب کے فضل سے مجنون نہیں ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: تم اپنے رب کے فضل سے ہرگز مجنون نہیں ہو۔
{مَاۤ اَنْتَ بِنِعْمَةِ رَبِّكَ بِمَجْنُوْنٍ: تم اپنے رب کے فضل سے ہرگز مجنون نہیں ہو۔} کفار نے نبی اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی شان میں (گستاخی کرتے ہوئے) کہا:
’’یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْ نُزِّلَ عَلَیْهِ الذِّكْرُ اِنَّكَ لَمَجْنُوْنٌ‘‘(حجر:۶)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اے وہ شخص جس پر قرآن نازل کیا گیا ہے! بیشک تم مجنون ہو۔
اللّٰہ تعالیٰ نے قسم ارشاد فرما کر ان کی بد گوئی کا رد کرتے ہوئے اپنے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے ارشاد فرمایا: ’’اے پیارے حبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، قلم اور ان کے لکھے کی قسم! آپ مجنون نہیں ہیں کیونکہ آپ پر آپ کے رب تعالیٰ کا فضل ہے اور اس کا لطف و کرم آپ کے شاملِ حال ہے ،اس نے آپ پر انعام و احسان فرمائے ،نبوت اور حکمت عطا کی ، مکمل فصاحت ، کامل عقل، پاکیزہ خصائل اور پسندیدہ اَخلاق عطا کئے، مخلوق کے لئے جس قدر کمالات ہونا ممکن ہیں وہ سب علیٰ وجہِ الکمال عطا فرمائے اور ہر عیب سے آپ کی بلند صفات ذات کو پاک رکھا اوران چیزوں کے ہوتے ہوئے آپ مجنون کیسے ہو سکتے ہیں ۔(خازن، ن، تحت الآیۃ: ۲، ۴/۲۹۳،تفسیر کبیر، القلم، تحت الآیۃ: ۲، ۱۰/۶۰۰،ملتقطاً)
تاجدارِ رسالت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی عظمت و شان:
یہاں ایک نکتہ قابلِ ذکر ہے کہ قرآنِ پاک میں بکثرت مقامات پر انبیاء ِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے کفار