ترجمۂکنزالایمان: بے شک اللّٰہ نے سنی اس کی بات جو تم سے اپنے شوہر کے معاملہ میں بحث کرتی ہے اور اللّٰہ سے شکایت کرتی ہے اور اللّٰہ تم دونوں کی گفتگو سُن رہا ہے بے شک اللّٰہ سنتا دیکھتا ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: بیشک اللّٰہ نے اس عورت کی بات سن لی جو اپنے شوہر کے معاملے میں آپ سے بحث کررہی ہے اور اللّٰہ کی بارگاہ میں شکایت کرتی ہے اور اللّٰہ تم دونوں کی گفتگو سن رہا ہے، بیشک اللّٰہ خوب سننے والا، خوب دیکھنے والاہے۔
{قَدْ سَمِعَ اللّٰهُ قَوْلَ الَّتِیْ تُجَادِلُكَ فِیْ زَوْجِهَا: بیشک اللّٰہ نے اس عورت کی بات سن لی جو اپنے شوہر کے معاملے میں آپ سے بحث کررہی ہے۔ } شانِ نزول: حضرت اوس بن صامت رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے کسی بات پر اپنی زوجہ حضرت خولہ بنت ِثعلبہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے کہا: تو مجھ پر میری ماں کی پشت کی مثل ہے۔ یہ کہنے کے بعد حضرت اَوس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو ندامت ہوئی ،یہ کلمہ زمانۂ جاہلیّت میں طلاق شمار کیا جاتا تھا ا س لئے حضرت اَوس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اپنی زوجہ سے کہا: میرے خیال میں تو مجھ پر حرام ہوگئی ہے۔حضرت خولہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے سر کارِ دوعالَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی خدمت میں حاضر ہو کر تمام واقعات ذکر کئے اور عرض کیا: میرا مال ختم ہوچکا ،ماں باپ وفات پاگئے، عمر زیادہ ہوگئی اوربچے چھوٹے چھوٹے ہیں ،اگر انہیں ان کے باپ کے پاس چھوڑ وں تو ہلاک ہوجائیں گے اور اپنے ساتھ رکھوں تو بھوکے مرجائیں گے،اب ایسی کیا صورت ہے کہ میرے اور میرے شوہر کے درمیان جدائی نہ ہو۔ رسولِ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’تیرے بارے میں میرے پاس کوئی حکم نہیں ، یعنی ابھی تک ظہار کے متعلق کوئی جدید حکم نازل نہیں ہوا اور پرانا دستور یہی ہے کہ ظہار سے عورت حرام ہوجاتی ہے۔حضرت خولہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے عرض کی: یا رسول اللّٰہ! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، حضرت اَوس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے طلاق کا لفظ نہیں کہا، وہ میرے بچوں کے باپ ہیں اور مجھے بہت ہی پیارے ہیں ، اسی طرح وہ بار بار عرض کرتی رہیں اورجب اپنی خواہش کے مطابق جواب نہ پایا تو آسمان کی طرف سر اُٹھا کر کہنے لگی: یا اللّٰہ!عَزَّوَجَلَّ، میں تجھ سے اپنی محتاجی ، بے کَسی اور پریشان حالی کی شکایت کرتی ہوں، اپنے نبی اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر میرے حق میں ایسا حکم نازل فرماجس سے میری مصیبت دورہو جائے۔ اُمُّ المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے اس سے فرمایا: خاموش ہو جا