Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
258 - 881
اور کافر کا حال واضح کرنے کے لئے ایک مثال بیان فرمائی ہے،چنانچہ ارشاد فرمایا کہ اے لوگو! کیا وہ شخص جو اپنے منہ کے بل اوندھا چلے اور نہ آگے دیکھے نہ پیچھے ،نہ دائیں  دیکھے نہ بائیں  ،وہ زیادہ راہ پر ہے یا وہ شخص جو راستے کو دیکھتے ہوئے سیدھی راہ پرسیدھا چلے جو منزلِ مقصود تک پہنچانے والی ہے۔( صاوی، الملک، تحت الآیۃ: ۲۲، ۱۰/۲۲۰۶، تفسیر طبری، الملک، تحت الآیۃ: ۲۲، ۱۲/۱۷۱، ملتقطاً)
کافر اور مؤمن کی دُنْیَوی مثال اوران کا اُخروی حال:
	اس مثال کا مقصود یہ ہے کہ کافر گمراہی کے میدان میں  اس طرح حیران و سرگرداں  جاتا ہے کہ نہ اسے منزل معلوم اور نہ وہ راستہ پہچانے اور مؤمن آنکھیں  کھولے راہِ حق دیکھتا اورپہچانتا چلتا ہے۔یہ تو کافر اور مؤمن کی دُنْیَوی مثال ہے جبکہ آخرت میں کفار کو واقعی منہ کے بل اٹھایا اور چہروں  کے بل جہنم کی طرف ہانکا جائے گا۔چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ’’وَ نَحْشُرُهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ عَلٰى وُجُوْهِهِمْ عُمْیًا وَّ بُكْمًا وَّ صُمًّاؕ-مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُؕ-كُلَّمَا خَبَتْ زِدْنٰهُمْ سَعِیْرًا‘‘(بنی اسرائیل:۹۷)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور ہم انہیں  قیامت کے دن ان کے منہ کے بل اٹھائیں  گے اس حال میں  کہ وہ اندھے اور گونگے اور بہرے ہوں  گے۔ان کا ٹھکانہ جہنم ہے جب کبھی بجھنے لگے گی تو ہم اسے اور بھڑکادیں  گے۔
 	اور ارشاد فرمایا: 
’’ اَلَّذِیْنَ یُحْشَرُوْنَ عَلٰى وُجُوْهِهِمْ اِلٰى جَهَنَّمَۙ-اُولٰٓىٕكَ شَرٌّ مَّكَانًا وَّ اَضَلُّ سَبِیْلًا ‘‘(فرقان:۳۴)
ترجمۂکنزُالعِرفان: وہ جنہیں  ان کے چہروں  کے بلجہنم کی طرف ہانکا جائے گا ان کا ٹھکانہ سب سے بدتر اوروہ سب سے زیادہ گم راہ ہیں۔
	اور ایمان والے متّقی لوگوں  کے بارے میں  ارشاد فرمایا: ’’وَ سِیْقَ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ اِلَى الْجَنَّةِ زُمَرًاؕ-حَتّٰۤى اِذَا جَآءُوْهَا وَ فُتِحَتْ اَبْوَابُهَا وَ قَالَ
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور اپنے رب سے ڈرنے والوں  کوگروہ درگروہ جنت کی طرف چلایا جائے گا یہاں  تک کہ