Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
257 - 881
فرمایا کہ اے کافرو!اللّٰہ تعالیٰ نے تمہیں  جو رزق دیا ہے اگر وہ اپنا رزق اور ا س کے پہنچنے کے اَ سباب(جیسے بارش یا دھوپ وغیرہ) روک لے تو ایساکون ہے جو تمہیں  کھلائے اور پلائے گا اور تم تک تمہاری غذا پہنچائے گا۔ان کفار کا حال تو یہ ہے کہ انہوں  نے ان نصیحتوں  سے اثر نہیں  لیا اور نہ ہی ان پر یقین کیا بلکہ وہ سرکش اور نفرت میں  ڈھیٹ بن گئے ہیں  اسی وجہ سے وہ حق سے قریب نہیں  ہوتے۔( صاوی ، الملک ، تحت الآیۃ : ۲۱ ، ۶/۲۲۰۶ ، تفسیر طبری ، الملک ، تحت الآیۃ : ۲۱ ، ۱۲/۱۷۰، خازن، الملک، تحت الآیۃ: ۲۱، ۴/۲۹۲، ملتقطاً)
	اس آیت سے معلوم ہو اکہ ساری مخلوق کو حقیقی طور پر رزق دینے والا اللّٰہ تعالیٰ ہے اور یہ اس کا بہت بڑ اانعام ہے اور جس نے مخلوق پر اتنا عظیم احسان اور انعام فرمایا صرف وہی عبادت کئے جانے کا حق دار ہے جیسا کہ ایک اور مقام پر اللّٰہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ’’یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اذْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْؕ-هَلْ مِنْ خَالِقٍ غَیْرُ اللّٰهِ یَرْزُقُكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِؕ-لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ﳲ فَاَنّٰى تُؤْفَكُوْنَ‘‘(فاطر:۳)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اے لوگو!اپنے اوپر اللّٰہ کا احسان یادکرو۔ کیا اللّٰہکے سوااور بھی کوئی خالق ہے جو آسمان اور زمین سے تمہیں  روزی دیتا ہے ؟ اس کے سوا کوئی معبود نہیں ، تو تم کہاں  الٹے پھرے جاتے ہو؟
اَفَمَنْ یَّمْشِیْ مُكِبًّا عَلٰى وَجْهِهٖۤ اَهْدٰۤى اَمَّنْ یَّمْشِیْ سَوِیًّا عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ(۲۲)
ترجمۂکنزالایمان: تو کیا وہ جو اپنے منہ کے بل اوندھا چلے زیادہ راہ پر ہے یا وہ جو سیدھا چلے سیدھی راہ پر۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: تو کیا وہ جو اپنے منہ کے بل اوندھا چلے وہ زیادہ راہ پر ہے یا وہ جو سیدھی راہ پرسیدھا چلے؟
{اَفَمَنْ یَّمْشِیْ مُكِبًّا عَلٰى وَجْهِهٖۤ: تو کیا وہ جو اپنے منہ کے بل اوندھا چلے۔} اس آیت میں  اللّٰہ تعالیٰ نے مؤمن