لَهُمْ خَزَنَتُهَا سَلٰمٌ عَلَیْكُمْ طِبْتُمْ فَادْخُلُوْهَا خٰلِدِیْنَ‘‘(زمر:۷۳)
جب وہ وہاں پہنچیں گے اور اس کے دروازے کھلے ہوئے ہوں گے اور اس کے داروغے ان سے کہیں گے: تم پر سلام ہو،تم پاکیزہ رہے تو ہمیشہ رہنے کوجنت میں جاؤ۔
قُلْ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْشَاَكُمْ وَ جَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ الْاَفْـٕدَةَؕ-قَلِیْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ(۲۳)
ترجمۂکنزالایمان: تم فرماؤ وہی ہے جس نے تمہیں پیدا کیا اور تمہارے لیے کان اور آنکھ اور دل بنائے کتنا کم حق مانتے ہو۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: تم فرماؤ: وہی ہے جس نے تمہیں پیدا کیا اور تمہارے لیے کان اور آنکھیں اور دل بنائے، تم بہت کم شکر ادا کرتے ہو۔
{قُلْ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْشَاَكُمْ: تم فرماؤ: وہی ہے جس نے تمہیں پیدا کیا ۔} یعنی اے پیارے حبیب!صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ،آپ مشرکین سے فرما دیں کہ اے کافرو!جس خدا کی طرف میں تمہیں دعوت دیتا ہوں وہ وہی ہے جس نے تمہیں پیدا کیا اور ا س نے تمہارے لئے کان بنائے تاکہ تم اللّٰہ تعالیٰ کی آیات کو سنو اور ان سے نصیحت حاصل کرو، اس نے تمہارے لئے آنکھیں بنائیں تاکہ تم ان کے ذریعے اللّٰہ تعالیٰ کی ان مَصنوعات کو دیکھو جو اس کی وحدانیَّتپر دلالت کرتی ہیں اور ا س نے تمہارے لئے دل بنائے تاکہ تم ان کے ذریعے اللّٰہ تعالیٰ کی آیات اور مَصنوعات میں غور وفکر کر سکو ،لیکن تمہارا حال یہ ہے کہ تم نے اِن اعضاء سے فائدہ نہ اُٹھایا کہ جو سنا وہ نہ مانا، جو دیکھا اُس سے عبرت حاصل نہ کی اور جو سمجھا اس میں غورنہ کیا اور تم بہت کم شکر ادا کرتے ہو کہ اللّٰہ تعالیٰ کے عطا فرمائے ہوئے اَعضاء سے وہ کام نہیں لیتے جس کیلئے وہ عطا ہوئے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ تم شرک و کفر میں مبتلا ہوگئے ہو۔( صاوی، الملک، تحت الآیۃ: ۲۳، ۶/۲۲۰۷، خازن، الملک، تحت الآیۃ: ۲۳، ۴/۲۹۲، ملتقطاً)