اللّٰہ تعالیٰ کے عذاب سے بے خوف نہ ہُوا جائے:
اسی عذاب کا ذکر کرتے ہوئے ایک اور مقام پر اللّٰہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: ’’اَفَاَمِنْتُمْ اَنْ یَّخْسِفَ بِكُمْ جَانِبَ الْبَرِّ اَوْ یُرْسِلَ عَلَیْكُمْ حَاصِبًا ثُمَّ لَا تَجِدُوْا لَكُمْ وَكِیْلًا‘‘(بنی اسرائیل:۶۸)
ترجمۂکنزُالعِرفان: کیا تم اس بات سے بے خوف ہوگئےکہ اللّٰہ تمہارے ساتھ خشکی کا کنارہ زمین میں دھنسا دے یا تم پر پتھر بھیجے پھر تم اپنے لئے کوئی حمایتی نہ پاؤ ۔
اور ارشاد فرمایا: ’’ قُلْ هُوَ الْقَادِرُ عَلٰۤى اَنْ یَّبْعَثَ عَلَیْكُمْ عَذَابًا مِّنْ فَوْقِكُمْ اَوْ مِنْ تَحْتِ اَرْجُلِكُمْ‘‘(انعام:۶۵)
ترجمۂکنزُالعِرفان: تم فرماؤ وہی اس پر قادر ہے کہ تم پر تمہارے اوپر سے یا تمہارے قدموں کے نیچے سے عذاب بھیجے۔
اور یہ اللّٰہ تعالیٰ کا اپنی مخلوق پر لطف و کرم اور اس کی رحمت ہے کہ انہیں عذاب دینے پر قادر ہونے کے باوجود ان کے کفر اور گناہوں کی وجہ سے فوری عذاب نازل نہیں کرتا بلکہ اسے مُؤخّر فرما دیتا ہے ،جیساکہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ’’وَ لَوْ یُؤَاخِذُ اللّٰهُ النَّاسَ بِمَا كَسَبُوْا مَا تَرَكَ عَلٰى ظَهْرِهَا مِنْ دَآبَّةٍ وَّ لٰكِنْ یُّؤَخِّرُهُمْ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّىۚ-فَاِذَا جَآءَ اَجَلُهُمْ فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِعِبَادِهٖ بَصِیْرًا‘‘(فاطر:۴۵)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور اگر اللّٰہ لوگوں کو ان کے اعمال کے سبب پکڑتا تو زمین کی پیٹھ پر کوئی چلنے والانہ چھوڑتا لیکن وہ ایک مقرر میعاد تک انہیں ڈھیل دیتا ہے پھرجب ان کی مقررہ مدت آئے گی تو بیشک اللّٰہ اپنے تمام بندوں کو دیکھ رہا ہے۔
لہٰذا اس کی رحمت اور کرم کے پیشِ نظر اس کے عذاب سے بے خوف ہو جانابہت بڑی نادانی اور کم عقلی ہے۔
وَ لَقَدْ كَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَكَیْفَ كَانَ نَكِیْرِ(۱۸)