کی طرف اٹھنا ہے۔( روح البیان ، الملک ، تحت الآیۃ : ۱۵ ، ۱۰/۸۸-۸۹، خازن، الملک، تحت الآیۃ: ۱۵، ۴/۲۹۱، سمرقندی، الملک، تحت الآیۃ: ۱۵، ۳/۳۸۸، صاوی، الملک، تحت الآیۃ: ۱۵، ۶/۲۲۰۴، ملتقطاً)
ءَاَمِنْتُمْ مَّنْ فِی السَّمَآءِ اَنْ یَّخْسِفَ بِكُمُ الْاَرْضَ فَاِذَا هِیَ تَمُوْرُۙ(۱۶) اَمْ اَمِنْتُمْ مَّنْ فِی السَّمَآءِ اَنْ یُّرْسِلَ عَلَیْكُمْ حَاصِبًاؕ-فَسَتَعْلَمُوْنَ كَیْفَ نَذِیْرِ(۱۷)
ترجمۂکنزالایمان: کیا تم اس سے نڈر ہوگئے جس کی سلطنت آسمان میں ہے کہ تمہیں زمین میں دھنسادے جبھی وہ کانپتی رہے۔یا تم نڈر ہوگئے اس سے جس کی سلطنت آسمان میں ہے کہ تم پر پتھراؤ بھیجے تو اب جانو گے کیسا تھا میرا ڈرانا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: کیا تم اُس (اللّٰہ) سے بے خوف ہوگئے جس کی سلطنت آسمان میں ہے اس بات میں کہ وہ تمہیں زمین میں دھنسادے تووہ زمین اچانک کانپنے لگے۔ یا تم اُس سے بے خوف ہوگئے جس کی سلطنت آسمان میں ہے اس بات میں کہ وہ تم پر پتھراؤ بھیجے تو تم جلد جان لو گے کہ میرا ڈراناکیسا تھا۔
{ءَاَمِنْتُمْ مَّنْ فِی السَّمَآءِ: کیا تم اُس سے بے خوف ہوگئے جس کی سلطنت آسمان میں ہے۔} اس آیت اور ا س کے بعد والی آیت میں اللّٰہ تعالیٰ نے کفارِمکہ کو اپنے عذاب سے ڈراتے ہوئے فرمایا کہ اے کفارِمکہ!جس رب تعالیٰ کی سلطنت آسمان میں ہے ،اس کی نافرمانی کر کے کیا تم اِس بات میں اُس سے بے خوف ہو گئے کہ وہ قارون کی طرح تمہیں بھی زمین میں دھنسا دے اور اس وقت تک زمین کو حرکت میں رکھے جب تک تم اس کے سب سے نچلے حصے میں نہ پہنچ جاؤ۔یا جس رب تعالیٰ کی سلطنت آسمان میں ہے، اس کی نافرمانی کر کے کیا تم اِس بات میں اُس سے بے خوف ہوگئے کہ وہ حضرت لوط عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم کی طرح تم پر بھی پتھراؤ بھیجے،تو عذاب دیکھ کر تم جلد جان لو گے کہ میرا اپنے عذاب سے ڈراناکیسا تھا؟( خازن، الملک، تحت الآیۃ: ۱۶-۱۷، ۴/۲۹۱، سمرقندی، الملک، تحت الآیۃ: ۱۶-۱۷، ۳/۳۸۸، ملتقطاً)