ترجمۂکنزالایمان: اور بیشک اُن سے اگلوں نے جھٹلایا تو کیسا ہوا میرا انکار۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور بیشک ان سے پہلے لوگوں نے جھٹلایا تومیرا انکار کیسا ہوا ؟
{وَ لَقَدْ كَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ: اور بیشک ان سے پہلے لوگوں نے جھٹلایا ۔} اس آیت میں اللّٰہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکو تسلی دیتے ہوئے اور کفارِمکہ کو اپنے عذاب سے ڈراتے ہوئے فرمایا کہ اے پیارے حبیب!صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، کفارِمکہ آپ کو جھٹلاتے ہیں تو ا س پر آپ غم نہ فرمائیں کیونکہ کفارِ مکہ سے پہلی اُمتوں کے کفار جیسے حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم اور قومِ عاد وغیرہ نے بھی میرے رسولوں کو جھٹلایا تو جب میں نے انہیں ہلاک کیا تو ا س وقت میراانکار کیسا ہوا،کیا انہوں نے میرے عذاب کوحق نہیں پایا۔ضرور انہوں نے میرے عذاب کو حق پایا ہے ۔( ابو سعود ، الملک ، تحت الآیۃ : ۱۸ ، ۵/۷۴۸ ، صاوی ، الملک ، تحت الآیۃ: ۱۸، ۶/۲۲۰۵، خازن، الملک، تحت الآیۃ: ۱۸، ۴/۲۹۱، ملتقطاً)
اَوَ لَمْ یَرَوْا اِلَى الطَّیْرِ فَوْقَهُمْ صٰٓفّٰتٍ وَّ یَقْبِضْنَﰉ مَا یُمْسِكُهُنَّ اِلَّا الرَّحْمٰنُؕ-اِنَّهٗ بِكُلِّ شَیْءٍۭ بَصِیْرٌ(۱۹)
ترجمۂکنزالایمان: اور کیا انہوں نے اپنے اوپر پرندے نہ دیکھے پر پھیلاتے اور سمیٹتے انہیں کوئی نہیں روکتا سوا رحمن کے بیشک وہ سب کچھ دیکھتا ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور کیا انہوں نے اپنے اوپر پر پھیلاتے ہوئے اور سمیٹتے ہوئے پرندے نہ دیکھے انہیں رحمن کے سواکوئی نہیں روکتا،بیشک وہ ہر چیز کو خوب دیکھنے والا ہے۔
{اَوَ لَمْ یَرَوْا اِلَى الطَّیْرِ فَوْقَهُمْ: اور کیا انہوں نے اپنے اوپر پرندے نہ دیکھے۔} اس آیت میں اللّٰہ تعالیٰ نے وہ