باریکی کو جاننے والاہے حتّٰی کہ وہ اندھیری رات میں ٹھوس پتھر پر چلنے والی سیاہ چیونٹی کے نشانات کوبھی دیکھتا ہے اور وہ تمام باطنی چیزوں پر خبردار ہے۔( روح البیان، الملک، تحت الآیۃ: ۱۴، ۱۰/۸۷، ملخصاً)
هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ ذَلُوْلًا فَامْشُوْا فِیْ مَنَاكِبِهَا وَ كُلُوْا مِنْ رِّزْقِهٖؕ-وَ اِلَیْهِ النُّشُوْرُ(۱۵)
ترجمۂکنزالایمان: وہی ہے جس نے تمہارے لیے زمین رام کر دی تو اس کے رستوں میں چلو اور اللّٰہ کی روزی میں سے کھاؤ اور اسی کی طرف اٹھنا ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: وہی ہے جس نے تمہارے لیے زمین کوتابع کر دیا تو تم اس کے راستوں میں چلو اور اللّٰہ کی روزی میں سے کھاؤ اور اسی کی طرف اٹھنا ہے۔
{هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ ذَلُوْلًا: وہی ہے جس نے تمہارے لیے زمین کوتابع کر دیا۔} اس آیت میں اللّٰہ تعالیٰ نے وہ نعمتیں بیان فرمائیں جو ا س نے اپنی مخلوق کو عطا فرمائی ہیں تاکہ وہ اس کی نعمت کو پہچان کر ا س کا شکر ادا کریں اور اللّٰہ تعالیٰ کی وحدانیَّتکا اقرار کریں ۔چنانچہ اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ وہی ہے جس نے زمین کو مناسب طور پر نرم فرما کر تمہارے تابع کر دیاتاکہ تمہارے لئے اس میں کنویں کھودنا،چشمے جاری کرنا،نہریں بنانا، مکانات اور عمارتیں تعمیر کرنا ،کھیتی باڑی اور باغبانی کرنا ممکن ہو جائے ،ورنہ اگر وہ زمین کو ٹھوس پتھر کی طرح بنا دیتا یا لوہا، سونا،پیتل وغیرہ کسی دھات کی بنا دیتا تو گرمیوں میں زمین انتہائی گرم ہوجاتی اور سردیوں میں انتہائی ٹھنڈی، ا س طرح زمین پر چلنا دشوار ہو جاتا (اور اگر پانی کی طرح نرم بنا دیتا تو کوئی چیز اس پر ٹھہر ہی نہ سکتی اور یوں زمین پر زندگی گزارنا ہی دشوار ہو جاتا) یہ اللّٰہ تعالیٰ کا بہت بڑا احسان ہے کہ اس نے زمین کو ایسابنایا ہے کہ ا س سے نفع حاصل کیا جا سکے تو تم اس کے راستوں میں چلو اور اللّٰہ تعالیٰ کی روزی میں سے کھاؤجو اس نے تمہارے لئے پیدا فرمائی ہے اور تمہیں قبروں سے جزا ء کیلئے اسی