ترجمۂکنزالایمان: اور تم اپنی بات آہستہ کہو یا آواز سے وہ تو دلوں کی جانتا ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور تم اپنی بات آہستہ کہو یا آواز سے،بیشک وہ تو دلوں کی بات خوب جانتا ہے۔
{وَ اَسِرُّوْا قَوْلَكُمْ اَوِ اجْهَرُوْا بِهٖ: اور تم اپنی بات آہستہ کہو یا آواز سے۔} شانِ نزول: حضرت عبد اللّٰہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں ’’ مشرکین رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے بارے میں باتیں کیا کرتے اور حضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلَام ان کی گفتگورسولِ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ تک پہنچا دیتے،اس پر مشرکین نے آپس میں کہا کہ چپکے چپکے بات کیاکرو تاکہ محمد(مصطفیصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ)کا خدا سن نہ پائے۔ اس پریہ آیت نازل ہوئی اور انہیں بتایا گیا کہ تمہاری یہ کوشش فضول ہے کیونکہ اللّٰہ تعالیٰ کی شان تو یہ ہے وہ دل کی بات کو زبان پر آنے سے پہلے ہی جانتاہے تووہ تمہاری زبانوں سے کی ہوئی گفتگو کو کیسے نہیں جان سکتا۔( خازن، الملک، تحت الآیۃ: ۱۳، ۴/۲۹۱، مدارک، الملک، تحت الآیۃ: ۱۳، ص۱۲۶۳، ملتقطاً)
اللّٰہ تعالیٰ کی شان تو بہت ہی بلند و بالا ہے، اس کے محبوب بندے حضرت سلیمان عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا یہ حال تھا کہ انہوں نے تین میل سے چیونٹی کی آواز سن لی تھی۔
اَلَا یَعْلَمُ مَنْ خَلَقَؕ-وَ هُوَ اللَّطِیْفُ الْخَبِیْرُ۠(۱۴)
ترجمۂکنزالایمان: کیا وہ نہ جانے جس نے پیدا کیا اور وہی ہے ہر باریکی جانتا خبردار۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: کیا جس نے پیدا کیاوہ نہیں جانتا؟ حالانکہ وہی ہر باریکی کو جاننے والا، بڑا خبردار ہے۔
{اَلَا یَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ: کیا جس نے پیدا کیاوہ نہیں جانتا؟ ۔} اس سے پہلی آیت میں کئے ہوئے دعویٰ کی دلیل دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ جس رب تعالیٰ نے اپنی کامل حکمت سے تمام اَشیاء کو وجود بخشا ہے اور انہی چیزوں میں تمہاری آہستہ یا بلند آواز سے کی گئی گفتگو بھی شامل ہے تو کیا اسے تمہاری باتوں کا علم نہ ہو گا حالانکہ ا س کی شان تو یہ ہے کہ وہ ہر