(یعنی جنت)ہے۔( تفسیر کبیر، الملک، تحت الآیۃ: ۱۲، ۱۰/۵۸۸-۵۸۹، خازن، الملک، تحت الآیۃ: ۱۲، ۴/۲۹۱)
اللّٰہ تعالیٰ کا خوف رکھنے والے بزرگ:
اللّٰہ تعالیٰ سے ڈرنے والے کے بارے میں ایک اور مقام پر ارشاد ہوتا ہے کہ
’’ مَنْ خَشِیَ الرَّحْمٰنَ بِالْغَیْبِ وَ جَآءَ بِقَلْبٍ مُّنِیْبِۙﹰ(۳۳)ادْخُلُوْهَا بِسَلٰمٍؕ-ذٰلِكَ یَوْمُ الْخُلُوْدِ‘‘(ق:۳۳،۳۴)
ترجمۂکنزُالعِرفان: جو رحمن سے بن دیکھے ڈرا اور رجوع کرنے والے دل کے ساتھ آیا۔(ان سے فرمایا جائے گا)سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہوجاؤ ،یہ ہمیشہ رہنے کا دن ہے۔
لہٰذا ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ اپنے دل میں اللّٰہ تعالیٰ کا خوف رکھے اور ا س کے عذاب سے ڈرتا رہے، ترغیب کے لئے یہاں خوف ِ خدا کی 2 مثالیں ملاحظہ ہوں ،
(1 )…علامہ اسماعیل حقی رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : ’’حضور پُر نور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نمازِ تہجد میں اتنا روتے تھے کہ آپ کے سینہ مبارک سے ہانڈی کَھولنے کی سی آواز آتی تھی ۔( روح البیان، الملک، تحت الآیۃ: ۱۲، ۱۰/۸۵)
(2) …حضرت ابو عمران رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں کہ مجھے خبر پہنچی ہے کہ حضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلَام ایک مرتبہ بارگاہِ رسالت میں روتے ہوئے حاضر ہوئے تو نبی اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے دریافت کیا ،’’اے جبریل! عَلَیْہِ السَّلَام، تمہیں کس چیز نے رُلا دیا؟ انہوں نے عرض کی’’ جب سے اللّٰہ تعالیٰ نے جہنم کو پیدا فرمایا ہے ، میری آنکھیں اُس وقت سے کبھی اس خوف کے سبب خشک نہیں ہوئیں کہ مجھ سے کہیں کوئی نافرمانی نہ ہوجائے اور میں جہنم میں ڈال دیا جاؤں ۔ (شعب الایمان، الحادی عشر من شعب الایمان۔۔۔ الخ،۱/۵۲۱، الحدیث: ۹۱۵) اللّٰہ تعالیٰ ہمیں بھی اپنا خوف نصیب کرے، اٰمین۔
وَ اَسِرُّوْا قَوْلَكُمْ اَوِ اجْهَرُوْا بِهٖؕ-اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ(۱۳)