Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
248 - 881
کے مطابق نیک عمل کرنے اور گناہوں  سے بچنے کی کوشش کرے تاکہ قیامت کے دن جہنم کے دردناک عذاب میں  مبتلا ہو نے اور اس بات پر پچھتانے سے بچ جائے کہ کاش! میں  نے اللّٰہ تعالیٰ اور ا س کے حبیب  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کے احکامات کے مطابق زندگی گزاری ہوتی تو آج مجھے جہنم میں  داخل نہ کیا جاتا ۔اللّٰہ تعالیٰ ہمیں  اپنی رضاوالی زندگی بسر کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور جہنم اور ا س کے عذابات سے ہمیں  محفوظ فرمائے ،اٰمین۔
{وَ قَالُوْا لَوْ كُنَّا نَسْمَعُ اَوْ نَعْقِلُ: اور وہ کہیں  گے: اگر ہم سنتے یا سمجھتے۔} امام عبد اللّٰہ بن احمد نسفی رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی  عَلَیْہِ   فرماتے ہیں ’’یہ آیت اس بات کی دلیل ہے کہ احکامِ شرع کا مدار دلیلِ عقلی اور دلیلِ سَمعیدونوں  پر ہے اور دونوں  حجت ِلازمہ ہیں ۔( مدارک، الملک، تحت الآیۃ: ۱۰، ص۱۲۶۳)
{فَاعْتَرَفُوْا بِذَنْۢبِهِمْ: تو اب انہوں  نے اپنے گناہ کا اقرار کیا۔} ارشاد فرمایا کہ اب(جہنم میں  داخل ہوتے وقت) انہوں  نے اپنے گناہ کا اقرار کیا کہ ہم رسولوں  کی تکذیب کرتے تھے ! اس وقت چاہے یہ اقرار کریں  یا انکار انہیں  ا س کا کوئی فائدہ نہیں  اور جہنمیوں  کو اللّٰہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے دور کر دیا ہے۔( مدارک، الملک، تحت الآیۃ: ۱۱، ص۱۲۶۳، ملخصاً)
اِنَّ الَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَیْبِ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ كَبِیْرٌ(۱۲)
ترجمۂکنزالایمان: بیشک وہ جو بے دیکھے اپنے رب سے ڈرتے ہیں اُن کے لیے بخشش اور بڑا ثواب ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: بیشک جو لوگ بغیر دیکھے اپنے رب سے ڈرتے ہیں  ان کے لیے بخشش اور بڑا ثواب ہے۔
{اِنَّ الَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَیْبِ: بیشک جو لوگ بغیر دیکھے اپنے رب سے ڈرتے ہیں ۔} اللّٰہ تعالیٰ نے کفار کے بارے میں  وعید بیان کرنے کے بعد یہاں  ایمان والوں  کے بارے میں  وعدہ کا بیان فرمایا ہے، چنانچہ ارشاد فرمایاکہ  وہ لوگ جو اپنے رب  عَزَّوَجَلَّ سے ڈرتے ہیں  حالانکہ انہوں  نے اپنے رب  عَزَّوَجَلَّ کو دیکھا نہیں  ہے اورا س کے عذاب سے ڈرتے ہوئے ا س پر ایمان لاتے ہیں  تو ان کے لئے ان کے گناہوں  سے بخشش اور اُن کی نیکیوں کا بڑا ثواب