پر ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
’’یَوْمَ نَقُوْلُ لِجَهَنَّمَ هَلِ امْتَلَاْتِ وَ تَقُوْلُ هَلْ مِنْ مَّزِیْدٍ‘‘(ق:۳۰)
ترجمۂکنزُالعِرفان: جس دن ہم جہنم سے فرمائیں گے:کیا تو بھر گئی؟ وہ عرض کرے گی: کیاکچھ اور زیادہ ہے؟
{كُلَّمَاۤ اُلْقِیَ فِیْهَا فَوْجٌ: جب کبھی کوئی گروہ اس میں ڈالا جائے گا۔} جہنم کا حال بیان کرنے کے بعد اب اہلِ جہنم کا حال بیان کیا جا رہا ہے،چنانچہ آیت کے اس حصے اور ا س کے بعد والی دو آیات کاخلاصہ یہ ہے کہ جب کبھی کفار کا کوئی گروہ جہنم میں ڈالا جائے گا تو جہنم کے داروغہ حضرت مالک عَلَیْہِ السَّلَام اور ان کے مددگار فرشتے ڈانٹتے ہوئے ان سے پوچھیں گے:اے کافرو! کیا دنیا میں تمہارے پاس کوئی ڈر سنانے والا نہیں آیاتھا جو تمہارے سامنے تمہارے رب عَزَّوَجَلَّ کی آیات پڑھتا ، تمہیں ا س دن کی ملاقات سے ڈراتا اور اللّٰہ تعالیٰ کے عذاب کا خوف دلاتا۔وہ اعتراف کرتے ہوئے کہیں گے : کیوں نہیں ، بیشک ہمارے پاس ڈر سنانے والے تشریف لائے اور اُنہوں نے اللّٰہ تعالیٰ کے اَحکام پہنچائے، اللّٰہ تعالیٰ کے غضب اور آخرت کے عذاب سے ڈرایا،لیکن ہم نے انہیں جھٹلایا اور دُنْیَوی کاموں میں مشغولیّت اور تکبُّر میں حد سے بڑھنے کی وجہ سے ہم نے ان آیات کے بارے میں کہا کہ اللّٰہ تعالیٰ نے کوئی چیز نہیں اتاری ، اے ہمیں ڈرانے والو!تم تو بڑی گمراہی میں ہی ہو۔جہنم کے خازن انہیں مزید ڈانتے ہوئے کہیں گے ’’کیا تم نے رسولوں کی زبان سے اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی آیات نہیں سنیں اور ان کے معانی کو نہیں سمجھا تاکہ تم انہیں نہ جھٹلاتے ؟ کفار جواب دیتے ہوئے کہیں گے اگر ہم نے دنیا میں رسولوں کی ہدایت کو دل سے سنا ہوتا اور اپنی عقل سے کام لیتے ہوئے اسے سمجھا ہوتا تو آج ہم دوزخ والوں میں سے نہ ہوتے۔( روح البیان، الملک، تحت الآیۃ: ۸-۱۰، ۱۰/۸۴-۸۵، خازن، الملک، تحت الآیۃ: ۸-۱۰، ۴/۲۹۰، مدارک، الملک، تحت الآیۃ: ۸-۱۰، ص۱۲۶۳، ملتقطاً)
بعض مسلمان بھی جہنم میں داخل ہوں گے :
یاد رہے کہ قیامت کے دن ایسا نہیں ہو گا کہ صرف کافروں کو ہی جہنم میں ڈالا جائے گا بلکہ بعض گنہگار مسلمان بھی ایسے ہوں گے جنہیں ان کے گناہوں کی سزا دینے کے لئے جہنم میں داخل کیا جائے گا لہٰذا ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ اپنی عقل سے کام لے اور اللّٰہ تعالیٰ اور اس کے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے دئیے ہوئے اَحکامات