Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
246 - 881
اللّٰهُ مِنْ شَیْءٍ ۚۖ-اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ كَبِیْرٍ(۹)وَ قَالُوْا لَوْ كُنَّا نَسْمَعُ اَوْ نَعْقِلُ مَا كُنَّا فِیْۤ اَصْحٰبِ السَّعِیْرِ(۱۰)فَاعْتَرَفُوْا بِذَنْۢبِهِمْۚ-فَسُحْقًا لِّاَصْحٰبِ السَّعِیْرِ(۱۱) 
ترجمۂکنزالایمان: معلوم ہوتا ہے کہ شدت غضب میں  پھٹ جائے گی جب کبھی کوئی گروہ اس میں  ڈالا جائے گا اس کے داروغہ ان سے پوچھیں  گے کیا تمہارے پاس کوئی ڈر سنانے والا نہ آیا تھا۔کہیں  گے کیوں  نہیں  بیشک ہمارے پاس ڈر سنانے والے تشریف لائے پھر ہم نے جھٹلایا اور کہا اللّٰہ نے کچھ نہیں  اوتاراتم تو نہیں  مگر بڑی گمراہی میں ۔اور کہیں  گے اگر ہم سنتے یا سمجھتے تو دوزخ والوں  میں  نہ ہوتے۔اب اپنے گناہ کا اقرار کیاتو پھٹکار ہو دوزخیوں  کو۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: معلوم ہوتا ہے کہ غضب سے پھٹ جائے گی، جب کبھی کوئی گروہ اس میں  ڈالا جائے گا تواس کے داروغہ ان سے پوچھیں  گے، کیا تمہارے پاس کوئی ڈر سنانے والا نہیں  آیا تھا؟وہ کہیں  گے:کیوں  نہیں ،بیشک ہمارے پاس ڈر سنانے والے تشریف لائے پھر ہم نے (انہیں )جھٹلایا اور ہم نے کہا: اللّٰہ نے کوئی چیز نہیں  اتاری ، تم تو بڑی گمراہی میں  ہی ہو۔اور وہ کہیں  گے: اگر ہم سنتے یا سمجھتے تو دوزخ والوں  میں  نہ ہوتے۔تو اب انہوں  نے اپنے گناہ کا اقرار کیا تو دوزخیوں  کے لیے پھٹکار ہو۔
{تَكَادُ تَمَیَّزُ مِنَ الْغَیْظِ: معلوم ہوتا ہے کہ غضب سے پھٹ جائے گی۔}  یہاں  جہنم کا ایک اور وصف بیان کیا گیا کہ جہنم کفار پر غضبناک ہو گی اور یوں  لگے گا جیسے غضب کی شدت کی وجہ سے جہنم ابھی پھٹ جائے گی اور ا س کے اَجزاء ایک دوسرے سے جدا ہو جائیں  گے۔( روح البیان، الملک، تحت الآیۃ: ۸، ۱۰/۸۳، ملخصاً)
	اس سے معلوم ہوا کہ جہنم میں  احساس ہے، وہ غضب بھی کرتی ہے بلکہ کلام بھی کرتی ہے جیساکہ ایک اور مقام